ایران کو میزائلوں سے نہیں، معاہدے سے روکا تھا: سابق امریکی صدر باراک اوباما

ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، ٹرمپ نے وہ معاہدہ چھوڑ دیا جس نے تہران کو بم بنانے سے روکا ہوا تھا، اوباما کی تنقید

ایران کو میزائلوں سے نہیں، معاہدے سے روکا تھا: سابق امریکی صدر باراک اوباما

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے سفارت کاری کے ذریعے تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا تھا۔

امریکی ریاست اوہائیو میں ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ ان کے دورِ صدارت میں ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے۔ ان کے مطابق 2015 کے جوہری معاہدے نے ایران کو یہ ہتھیار حاصل کرنے سے روک رکھا تھا۔

اوباما کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ کا بنیادی جواز ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بتایا گیا، جبکہ ان کی انتظامیہ اس مقصد کے لیے پہلے ہی معاہدہ کرچکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے انہیں میزائل داغنے کی ضرورت نہیں پڑی، بلکہ انہوں نے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔

سابق امریکی صدر نے یاد دلایا کہ ٹرمپ نے 2018 میں امریکا کو اس جوہری معاہدے سے الگ کردیا تھا۔

خبر شیئر کریں: