پاکستان نے 49 کروڑ ڈالر کا قرض کیوں ٹھکرا دیا؟
قرض کی مجموعی لاگت تقریباً 8 فیصد تھی، وزارت خزانہ نے کم شرح پر متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ہدایت کردی
پاکستان نے زیادہ شرح سود کے باعث انٹرنیشنل ٹریڈ فنانس کارپوریشن، آئی ٹی ایف سی، سے 49 کروڑ ڈالر کا تجارتی قرض لینے سے انکار کردیا ہے۔ یہ ادارہ اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کا حصہ ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق قرض کی مجموعی لاگت تقریباً 8 فیصد بن رہی تھی، جبکہ حکومت کو تقریباً 6 فیصد شرح پر یہ سہولت ملنے کی توقع تھی۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس نے گزشتہ ہفتے ایک سال مدت کی اس پیشکش کو مسترد کیا۔ اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت دی گئی ہے کہ آئی ٹی ایف سی یا کسی دوسرے ذریعے سے بہتر شرح پر قرض کے امکانات تلاش کرے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی مجموعی مالیاتی ضروریات کا تخمینہ 28 ہزار 647 ارب روپے ہے، جو جی ڈی پی کے تقریباً 20 فیصد کے برابر ہے۔ اس میں وفاقی مالیاتی خسارہ اور ملکی و بیرونی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگیاں شامل ہیں۔
وزارت خزانہ نے خالص بیرونی مالیاتی ضروریات تقریباً 2.8 ارب ڈالر بتائی ہیں، تاہم پرانے قرضوں کی واپسی کے باعث نئے قرضوں کی مجموعی ضرورت زیادہ ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پیشکش کی لاگت دسمبر 2027 میں واجب الادا پاکستانی بانڈ کی تقریباً 6.1 فیصد مارکیٹ شرح سے بھی بلند تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے اگست میں یو بی ایل کے ذریعے 30 کروڑ ڈالر کا تجارتی قرض اور ستمبر میں یورو بانڈز سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے۔





