پاکستان کی سہ ماہی معاشی رپورٹ جاری، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ
جولائی تا ستمبر برآمدات 11.2 ارب ڈالر، ترسیلاتِ زر 10.9 ارب ڈالر رہیں، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی 20 فیصد بڑھی
اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق برآمدات، ترسیلاتِ زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11 فیصد بڑھ کر 11 ارب 20 کروڑ ڈالر ہوگئیں۔ اشیا کی برآمدات 8 ارب 50 کروڑ جبکہ خدمات کی برآمدات 2 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں۔
آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم ایک ارب 25 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 14 فیصد اضافے سے 10 ارب 90 کروڑ ڈالر رہیں، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور یورپی یونین نمایاں ذرائع رہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 20 فیصد بڑھ کر 72 کروڑ ڈالر رہی۔ پہلی سہ ماہی میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا خالص بہاؤ 3 ارب 65 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21 ارب 50 کروڑ اور ملک کے مجموعی ذخائر 26 ارب 80 کروڑ ڈالر بتائے گئے ہیں۔ تاہم جاری کھاتے کا خسارہ گزشتہ سال کے 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا۔
ایف بی آر کی وصولیاں 7 فیصد اضافے سے 31 کھرب روپے رہیں۔ وزارت کے مطابق پہلی سہ ماہی کا ٹیکس ہدف حاصل کرلیا گیا، جبکہ گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 57 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی۔
جولائی اور اگست میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.85 فیصد اضافہ ہوا۔ ستمبر تک نجی شعبے کے قرضوں کا حجم 16.6 فیصد بڑھ کر 112 کھرب 80 ارب روپے ہوگیا۔
رپورٹ میں نجکاری، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ٹیکس اصلاحات پر پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، روزگار اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے سے جوڑنا آئندہ ترجیحات میں شامل ہے۔





