2027 میں بجلی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ، فی یونٹ خریداری لاگت کا نیا تخمینہ
سی پی پی اے نے بجلی کی اوسط خریداری لاگت 27 روپے 30 پیسے فی یونٹ تک پہنچنے کا تخمینہ پیش کردیا، نیپرا 3 نومبر کو سماعت کرے گا۔
AI Generated
اسلام آباد: پاکستان میں سال 2027 کے دوران بجلی کی خریداری کی اوسط لاگت 27 روپے 30 پیسے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے جی) نے آئندہ سال کے لیے بجلی کی خریداری پر تقریباً 35 کھرب 50 ارب روپے کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ پیش کیا ہے۔
سی پی پی اے جی کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرائی گئی درخواست میں جنوری سے دسمبر 2027 تک بجلی کی خریداری کے اخراجات اور مختلف معاشی حالات کے ممکنہ اثرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تخمینے بجلی تقسیم کرنے والی سابق واپڈا کمپنیوں کے صارفین کے لیے نئے ٹیرف کی بنیاد طے کرنے کے عمل کا حصہ ہیں۔
دستاویزات کے مطابق بنیادی تخمینے میں بجلی کی فی یونٹ خریداری لاگت 27 روپے 30 پیسے رکھی گئی ہے۔ تاہم ایندھن کی قیمتوں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور بجلی کی طلب میں تبدیلی کے باعث یہ لاگت مختلف ہوسکتی ہے۔
ادارے نے چھ مختلف معاشی اور تکنیکی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اندازے تیار کیے ہیں۔ نسبتاً سازگار حالات میں بجلی کی خریداری لاگت 25 روپے 88 پیسے فی یونٹ رہنے کا امکان ہے، جبکہ زیادہ اخراجات والے منظرنامے میں یہ رقم 29 روپے 26 پیسے فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔
بنیادی تخمینے میں امریکی ڈالر کی قیمت 279 روپے، بجلی کی سالانہ طلب میں 2.60 فیصد اضافہ اور تقسیم کار کمپنیوں کو 130 ہزار 81 گیگاواٹ آور بجلی کی فروخت فرض کی گئی ہے۔ ان مفروضوں کی بنیاد پر آئندہ سال کے مجموعی اخراجات کا حساب لگایا گیا ہے۔
بجلی کی خریداری کے مجوزہ اخراجات میں سب سے بڑا حصہ کیپیسٹی چارجز کا ہے۔ یہ وہ ادائیگیاں ہیں جو بجلی گھروں کی دستیاب پیداواری صلاحیت کے لیے معاہدوں کے تحت کی جاتی ہیں۔ سی پی پی اے جی کے تخمینے میں ان ادائیگیوں کا حجم تقریباً 19 کھرب 10 ارب روپے، یعنی 14 روپے 72 پیسے فی یونٹ رکھا گیا ہے۔
اسی طرح بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن پر تقریباً 13 کھرب 20 ارب روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے، جو فی یونٹ 10 روپے 14 پیسے بنتے ہیں۔ بجلی گھروں کے متغیر آپریشنل اور دیکھ بھال کے اخراجات تقریباً 70 ارب 58 کروڑ روپے، یعنی 54 پیسے فی یونٹ ظاہر کیے گئے ہیں۔
بجلی کی ترسیل اور وزارتِ خزانہ سے متعلق دیگر چارجز کی مجموعی مالیت تقریباً 248 ارب 30 کروڑ روپے بتائی گئی ہے، جس کا فی یونٹ حصہ ایک روپے 91 پیسے بنتا ہے۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیداواری صلاحیت کی ادائیگیاں اور ایندھن بجلی کی خریداری لاگت کے بنیادی عوامل ہیں۔
سی پی پی اے جی نے روپے کی قدر میں ممکنہ کمی کے اثرات بھی شامل کیے ہیں۔ دو زیادہ اخراجات والے منظرناموں میں ڈالر کی قیمت 290 روپے فرض کی گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں بجلی کی خریداری لاگت بالترتیب 28 روپے 84 پیسے اور 29 روپے 26 پیسے فی یونٹ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
اگر بجلی کی طلب میں سالانہ اضافہ صرف 0.70 فیصد رہے تو فروخت کا حجم کم ہوکر 127 ہزار 937 گیگاواٹ آور رہنے کا اندازہ ہے۔ اس صورت میں فی یونٹ خریداری لاگت تقریباً 27 روپے 57 پیسے ہوسکتی ہے۔
قدرتی گیس اور درآمدی ایل این جی کے استعمال کے مختلف تناسب کو مدنظر رکھنے والے ایک الگ تخمینے میں فی یونٹ لاگت 26 روپے 44 پیسے ظاہر کی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایندھن کے انتخاب اور اس کی قیمت میں تبدیلی بھی مجموعی اخراجات پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
نیپرا نے سی پی پی اے جی کی درخواست پر 3 نومبر 2026 کو دوپہر 2 بجے اسلام آباد میں عوامی سماعت مقرر کی ہے۔ متعلقہ اداروں اور دیگر متاثرہ فریقوں کو اعتراضات اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جبکہ آن لائن شرکت کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
سماعت کے دوران بجلی کی متوقع طلب، پیداواری اخراجات، روپے کی قدر اور دیگر مالی مفروضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس عمل کے بعد نیپرا آئندہ سال کے لیے متعلقہ حوالہ جاتی لاگت کے تعین پر فیصلہ کرے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ 27 روپے 30 پیسے فی یونٹ کا تخمینہ صارفین کے لیے بجلی کے حتمی بل یا نئے ریٹ کا اعلان نہیں ہے۔ یہ بجلی کی خریداری کی مجوزہ اوسط لاگت ہے۔ صارفین کے حتمی نرخوں میں ترسیلی اور تقسیمی اخراجات، ٹیکس، ڈیوٹیز، سبسڈیز اور دیگر متعلقہ اجزا بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یکم جنوری 2027 سے تمام صارفین کو 27 روپے 30 پیسے فی یونٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔ حتمی صورتحال نیپرا کی جانچ پڑتال، فیصلے اور متعلقہ حکومتی اقدامات کے بعد واضح ہوگی۔





