کور کمیٹی کو نظرانداز نہیں کیا، حتمی اختیار عمران خان کے پاس ہے: تحریک انصاف

پارلیمانی کمیٹی کو مضبوط بنانے کی صرف تجویز دی گئی، فیصلہ نہیں ہوا، نعیم حیدر پنجوتھا کی وضاحت

کور کمیٹی کو نظرانداز نہیں کیا، حتمی اختیار عمران خان کے پاس ہے: تحریک انصاف

اسلام آباد: تحریک انصاف نے پارٹی کی کور کمیٹی کو نظرانداز کرنے یا اس کے اختیارات کسی دوسرے فورم کو منتقل کرنے کی خبروں کی تردید کردی۔

مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کی الگ ذمہ داریاں ہیں۔ تنظیمی اور سیاسی معاملات متعلقہ کمیٹیاں دیکھتی ہیں، جبکہ پارلیمانی پارٹی قانون سازی اور پارلیمانی امور پر کام کرتی ہے۔

ان کے مطابق تمام فیصلوں کا حتمی اختیار عمران خان کے پاس ہے، جنہوں نے کمیٹیوں کو اختیارات تفویض کیے ہیں۔

نعیم حیدر پنجوتھا نے ڈان کو بتایا کہ بیرسٹر علی ظفر نے پارلیمانی کمیٹی کو مضبوط بنانے کی تجویز دی تھی، تاہم کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ سیاسی کمیٹی میں تنظیمی شعبوں کے سربراہوں کو شامل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی تھی۔

پارٹی نے بیرسٹر گوہر علی خان سے منسوب اس بیان کی بھی تردید کی کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت پشاور گئے تھے۔

الگ بیان میں تحریک انصاف نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اہلخانہ اور وکلا سے باقاعدہ ملاقاتوں اور عمران خان کے مناسب طبی معائنے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے عمران خان کی بہنوں سمیت گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا۔

خبر شیئر کریں: