سرداری نظام کے خاتمے کی مخالفت، قبائلی رہنماؤں نے حکومت سے وجوہات مانگ لیں

نواب محمد خان شاہوانی اور سردار کمال خان بنگلزئی کی مجوزہ خاتمے کی مخالفت، حکومت سے وجوہات واضح کرنے کا مطالبہ

سرداری نظام کے خاتمے کی مخالفت، قبائلی رہنماؤں نے حکومت سے وجوہات مانگ لیں

کوئٹہ: نواب محمد خان شاہوانی اور سردار کمال خان بنگلزئی نے کہا ہے کہ اسمبلی کی قرارداد سے صدیوں پرانا سرداری اور نوابی نظام ختم نہیں کیا جاسکتا۔

اتوار کو پریس کانفرنس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سرداری روایتی اور موروثی حیثیت ہے۔ کسی فرد کی غلطی پر پورے نظام کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے متعلقہ شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

نواب شاہوانی نے کہا کہ قبائلی رہنما باہمی رضامندی سے تنازعات حل کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے نظام کے مجوزہ خاتمے کی وجوہات واضح کرنے اور اصلاحات کے لیے قبائلی رہنماؤں سے بات چیت کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امن، بنیادی سہولتوں اور فوری و سستے انصاف کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

سردار بنگلزئی نے بھی کہا کہ قبائلی نظام نسلوں سے تنازعات کے کم خرچ حل کا ذریعہ رہا ہے۔ حکومت تبدیلی چاہتی ہے تو عدالتی نظام مضبوط کرے، تاکہ لوگوں کو فوری انصاف مل سکے۔

پریس کانفرنس میں میر اشرف خان ساتکزئی، سردار محمد عاصم سرپرہ، سید علی محمد شاہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

خبر شیئر کریں: