سربیا میں طلبہ تحریک کامیاب، حکمران جماعت کو انتخابات میں شکست

تقریباً دو سال کی احتجاجی تحریک کے بعد طلبہ کی حمایت یافتہ اتحاد کی کامیابی، بلغراد سمیت مختلف شہروں میں جشن

سربیا میں طلبہ تحریک کامیاب، حکمران جماعت کو انتخابات میں شکست

بلغراد: سربیا میں طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک نے انتخابی میدان میں کامیابی حاصل کرلی۔ صدر الیگزینڈر ووچچ نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست تسلیم کرلی۔

ووچچ نے اتوار کی رات خطاب میں کہا کہ اگرچہ سرکاری نتائج ابھی حتمی نہیں ہوئے، تاہم واضح ہے کہ ان کی جماعت ہار گئی ہے اور طلبہ کی حمایت یافتہ ’’اسٹوڈنٹ لسٹ‘‘ کامیاب ہوئی ہے۔

یہ انتخابات تقریباً دو سال سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد ہوئے۔ تحریک کا آغاز 2024 میں نووی ساد شہر کے ریلوے اسٹیشن کا سائبان گرنے سے ہوا تھا، جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سانحے کے بعد مبینہ بدعنوانی اور انتظامی غفلت کے خلاف مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے۔

انتخابی کامیابی کے بعد بلغراد اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ شہریوں نے نعرے لگائے، آتش بازی کی اور گاڑیوں کے ہارن بجا کر خوشی منائی۔

طلبہ تحریک کے امیدوار الیا سردانووچ نے کامیابی کو ملک کے بہتر مستقبل کی جانب پیش رفت قرار دیا۔ تحریک کے رہنماؤں نے بدعنوانی کے خاتمے اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

خبر شیئر کریں: