انتخابات کے بعد ایران پر شدید بمباری کا خدشہ، ٹرمپ کی نئی جنگی تیاریوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
بلومبرگ نے انتخابات کے بعد کشیدگی بڑھنے کا امکان ظاہر کیا، ٹرمپ نے جلد حملے اور معاہدے دونوں کا امکان کھلا رکھا
امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شدت آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے خطے میں اپنی عسکری قوت بڑھانے کے لیے تیسرا طیارہ بردار بحری گروپ اور مزید 10 ہزار بحری اہلکار و میرینز خلیج کی جانب روانہ کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اضافی تعیناتی کا مقصد نئی کارروائی کی صورت میں امریکی کمانڈروں کو مزید اختیارات فراہم کرنا ہے۔ تاہم حملوں کے حتمی فیصلے یا وقت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہوں گے، جبکہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو شیڈول ہیں۔ بلومبرگ کے تجزیے کے مطابق جنگ کے باعث ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور مہنگائی ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے انتخابی مشکلات پیدا کررہی ہیں۔
رپورٹ میں بعض امریکی فوجی اڈوں پر اہلکاروں کی تعداد کم کیے جانے کا بھی ذکر ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی ماہر اصلی آئدنتاشباش نے کہا کہ حالات بڑی فضائی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہیں، لیکن وقت غیر یقینی ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے علی واعظ نے خبردار کیا کہ جنگ کو سیاسی مشکلات سے نکلنے کا ذریعہ سمجھنا ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے الٹا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کے سوال پر اتوار کو کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ہوسکتا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد کارروائی کو صرف انتخابات کے بعد تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔





