برازیل میں لولا کی تاریخی کامیابی، حریف نے نتیجہ ماننے سے انکار کردیا
51.8 فیصد ووٹ حاصل کیے، حریف فلاویو بولسونارو کا شکست تسلیم کرنے سے انکار اور انتخابات منسوخ کرانے کا اعلان
برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرکے چوتھی بار صدر منتخب ہوگئے۔ پہلے مرحلے میں پیچھے رہنے والے لولا نے فیصلہ کن مقابلے میں اپنے حریف فلاویو بولسونارو کو شکست دی۔
سرکاری نتائج کے مطابق لولا کو 51.8 فیصد اور بولسونارو کو 48.2 فیصد ووٹ ملے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کا فرق رہا۔
سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے فلاویو بولسونارو نے نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابات منسوخ کرانے کی درخواست دیں گے۔
انتخابی دن سپریم کورٹ کی جانب سے پولنگ میں دو گھنٹے کی توسیع کے فیصلے پر تنازع پیدا ہوا۔ لولا نے بعض شہروں میں بسوں کی بندش سے ووٹرز کی رسائی متاثر ہونے کی شکایت کی تھی، جبکہ بولسونارو نے بھی شدید بارشوں کے باعث بعض علاقوں میں وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی۔
کامیابی کے بعد لولا نے کہا کہ لوگوں کو جمہوریت کے تحفظ کے لیے ووٹ کی اہمیت پر قائل کیا گیا۔ ریو ڈی جنیرو اور ساؤ پاؤلو میں ان کے حامیوں نے جشن منایا۔
لولا 2003 میں پہلی بار صدر بنے اور 2006 میں دوبارہ منتخب ہوئے۔ انہوں نے 2022 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد تیسری بار اقتدار سنبھالا تھا۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی لولا کو مبارکباد دی اور تجارت، سرمایہ کاری، زراعت اور عالمی فورمز پر پاکستان اور برازیل کے تعاون میں مزید اضافے کی امید ظاہر کی۔





