ایران پاکستان کی ثالثی میں امریکا سے دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار

ایرانی سفیر کے مطابق بحری ناکہ بندی ختم ہونے پر آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی، ٹرمپ نے تجویز قبول نہیں کی

ایران پاکستان کی ثالثی میں امریکا سے دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار

ایران نے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ تہران سفارتی حل چاہتا ہے، لیکن امریکا کے موجودہ اقدامات مذاکرات آگے بڑھانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایران نے حال ہی میں پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو پیغام دیا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی جائے تو وہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر نے ناکہ بندی برقرار رکھنے پر اصرار کرتے ہوئے یہ تجویز قبول نہیں کی۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ جون میں پاکستان اور قطر کی مدد سے طے پانے والے عبوری معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا، امریکی ناکہ بندی ختم کرنا اور جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر وسیع مذاکرات شروع کرنا تھا۔

رضا امیری مقدم کے مطابق پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران بھی ایرانی حکام نے امریکی ناکہ بندی ختم ہونے کی شرط پر آبنائے ہرمز کھولنے کی آمادگی سے آگاہ کیا تھا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایران اس کا جائزہ لینے کے بعد حمایت سے متعلق فیصلہ کرے گا۔ تینوں ممالک نے اگست 2026 میں معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ علاقائی امن و استحکام کے لیے دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے۔

خبر شیئر کریں: