وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی، گاڑیوں کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں متوقع

پانچ سالہ مجوزہ پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس، گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور آٹو سیکٹر کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی، گاڑیوں کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں متوقع

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026 تا 2031 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس میں گاڑیوں کی درآمد پر محصولات کم کرنے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور پاکستان کی آٹو انڈسٹری کی برآمدات میں نمایاں اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔ تاہم نئی پالیسی کے نفاذ کے لیے وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری ابھی باقی ہے۔

روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کو نئی آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے پیش کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے منگل کو اس مسودے کی منظوری دی، اگرچہ وزیراعظم آفس کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

مجوزہ پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت کو عالمی مسابقت کے لیے تیار کرنا، مقامی پیداوار بہتر بنانا، برآمدات بڑھانا اور نئی ٹیکنالوجی، بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

مسودے میں مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں اور مقامی سطح پر اسمبلنگ کے لیے درآمد کیے جانے والے پرزوں کی کٹس پر محصولات بتدریج کم کرکے مالی سال 2030-31 تک 15 فیصد کی سطح پر لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، تاہم مقامی پرزہ ساز صنعت نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے پالیسی میں 2026 سے 2031 تک مکمل بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس رکھنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر نو فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔

75 ہزار ڈالر سے زیادہ مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی مسودے کا حصہ ہے، جبکہ 15 ہزار ڈالر سے کم قیمت والی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے درآمدی محصولات میں مزید رعایت دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

عام خریداروں کے لیے گاڑیوں کی خریداری میں مالی سہولت بڑھانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ مسودے کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے اور قرض کی واپسی کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ فنانسنگ کی حد اور مدت میں تبدیلی سے الیکٹرک گاڑیوں تک صارفین کی رسائی بہتر ہوسکے گی، تاہم اس کا عملی فائدہ گاڑیوں کی قیمتوں، قرض کی شرائط اور بینکوں کی فنانسنگ پالیسیوں پر بھی منحصر ہوگا۔

پانچ سالہ منصوبے کے تحت گاڑیوں اور ان کے پرزوں کی مجموعی برآمدات تقریباً 6 ارب ایک کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس میں مالی سال 2026-27 کے لیے 25 کروڑ 66 لاکھ ڈالر اور 2027-28 کے لیے 67 کروڑ 18 لاکھ ڈالر کی برآمدات کا ہدف شامل ہے۔

اسی طرح 2028-29 میں ایک ارب 11 کروڑ ڈالر، 2029-30 میں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر اور 2030-31 میں دو ارب 19 کروڑ ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار حکومتی اہداف ہیں، حاصل شدہ برآمدات نہیں۔

نئی پالیسی میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے برآمدی اہداف بھی لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔ برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کو برآمدی مالیت کے پانچ فیصد کے برابر مراعات مل سکیں گی، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد ترغیب دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب مقررہ اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ مسلسل دو سال تک برآمدی اہداف حاصل نہ کرنے کی صورت میں کمپنی کا مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی شق بھی مسودے میں شامل ہے۔

پالیسی میں مقامی سطح پر تیار ہونے والے آٹو پارٹس کے استعمال میں اضافے کے لیے بھی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ ان اہداف پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کو سرکاری مراعات سے محروم کیا جاسکتا ہے۔

حکومت نے آٹو موٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کے ذریعے پانچ برسوں میں 232 ارب روپے سے زیادہ رقم جمع کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ مجوزہ لیوی ایک ہزار سی سی سے زیادہ انجن کی حامل گاڑیوں پر عائد کرنے کی تجویز ہے۔

اس رقم کو برآمدی مراعات، صنعتی ترقی اور مقامی آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی بہتر بنانے کے منصوبوں پر خرچ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

گاڑیوں کے معیار اور حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے پاکستان آٹو موٹیو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا منصوبہ بھی پالیسی میں شامل ہے۔ مجوزہ ادارہ گاڑیوں کی جانچ، معیار کی تصدیق اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات اپنانے کے عمل میں کردار ادا کرے گا۔

تاہم مقامی آٹو پارٹس تیار کرنے والی صنعت نے مجوزہ پالیسی کے بعض نکات پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین عبدالرحمان اعزاز نے خبردار کیا ہے کہ درآمدی پرزوں پر محصولات 15 فیصد تک کم کرنے سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کے مطابق اس فیصلے سے ابتدا میں گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن درآمدی گاڑیوں کا مقابلہ بڑھنے کی صورت میں مقامی اسمبلرز بھی مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان گاڑیاں اور پرزے تیار کرنے کے بجائے درآمد کرنے والی منڈی بن سکتا ہے۔

نئی آٹو پالیسی کا مسودہ اب وفاقی کابینہ کے سامنے اصولی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہوگی۔ اس لیے الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس میں مجوزہ رعایت، فنانسنگ کی نئی حد اور درآمدی ڈیوٹی میں کمی کو فی الحال نافذ شدہ فیصلے کے بجائے زیرِ غور تجاویز سمجھا جائے۔

خبر شیئر کریں: