گندم کی بڑھتی قیمتوں پرنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا فوری اقدامات کا حکم
مارکیٹ میں سپلائی بڑھانے اور ذخیرہ اندوزی روکنے کی ہدایت، حکام نے آئندہ فصل تک گندم کے وافر ذخائر کی موجودگی سے آگاہ کردیا
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گندم کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو قیمتیں قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کردی۔
اشیائے ضروریہ کے ذخائر، قیمتوں اور فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے ہفتے کو کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اسحاق ڈار نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ غذائی تحفظ اور عوام کو مناسب قیمتوں پر ضروری اشیا کی فراہمی حکومت کی ترجیحات ہیں۔
اجلاس میں ملکی ذخائر، خریداری کے طریقہ کار، مقامی کھپت اور قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مقامی اور درآمدی گندم کے ذخائر آئندہ فصل تک ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ چینی کے بھی وافر ذخائر موجود ہیں، جبکہ مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت مقررہ ہدف 155 روپے فی کلو سے کم ہے۔
اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام کو مارکیٹ کی کڑی نگرانی، گندم کی سپلائی بڑھانے اور ذخیرہ اندوزی و قیمتیں بڑھانے کے لیے سٹے بازی کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت کی۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے کسان ونگ نے 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ امدادی قیمت ساڑھے چار ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مؤثر خریداری نظام کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو نئی قیمت مقرر کی تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔
کسان ونگ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات خالد نواز سدھرائچ نے کہا کہ قیمت کے اعلان کا فائدہ اسی وقت ہوگا جب کسان اپنی گندم اسی نرخ پر فروخت کرسکیں۔ انہوں نے مؤثر سرکاری خریداری نہ ہونے کی صورت میں کسانوں کو کم قیمت پر فصل بیچنے کے خدشے سے آگاہ کیا۔
انہوں نے حکومت سے واضح خریداری پالیسی، بروقت خریداری مراکز، شفاف طریقہ کار اور شکایات کے آسان نظام کا مطالبہ کیا، تاکہ چھوٹے اور درمیانے کسانوں کو اعلان کردہ قیمت مل سکے۔





