قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ لگانے والوں کے لیے خوشخبری، منافع کی شرح میں اضافہ
نئی شرحوں کا اطلاق آج سے شروع، پنشنرز، بزرگ شہریوں اور شہدا کے اہل خانہ سمیت مختلف اسکیموں کے سرمایہ کاروں کو پہلے سے زیادہ منافع ملے گا۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی بچت کی متعدد اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافہ کردیا ہے۔ نئی شرحوں کا اطلاق بدھ 21 اکتوبر 2026 سے ہوگیا ہے، جس کے تحت پنشنرز، بزرگ شہریوں، شہدا کے اہل خانہ اور دیگر سرمایہ کاروں کو اپنی جمع شدہ رقم پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ منافع حاصل ہوگا۔
سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کی جانب سے جاری کردہ نئے شیڈول کے مطابق بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹس پر سالانہ منافع کی شرح 12.72 فیصد سے بڑھا کر 12.96 فیصد کردی گئی ہے۔
نئی شرح کے تحت ان اسکیموں میں ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ منافع ایک ہزار 60 روپے سے بڑھ کر ایک ہزار 80 روپے ہوجائے گا۔ اس طرح ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ 20 روپے اور سالانہ 240 روپے کا اضافی منافع حاصل ہوگا۔
حکومت نے ریگولر انکم سرٹیفکیٹس پر بھی منافع بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم پر سالانہ شرح 11.76 فیصد سے بڑھا کر 12.12 فیصد کردی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ منافع 980 روپے کے بجائے ایک ہزار 10 روپے ملے گا، یعنی ہر ماہ 30 روپے کا اضافہ ہوگا۔
اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس پر پہلے پانچ منافعوں کی ادائیگی کے لیے شرح 11.60 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ہر چھ ماہ بعد 6 ہزار روپے منافع ملے گا، جبکہ چھٹی اور آخری ادائیگی 12.80 فیصد شرح کے حساب سے 6 ہزار 400 روپے ہوگی۔
ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس میں طویل مدت کے لیے رقم جمع کرانے والوں کے منافع میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ چھ سال کی مدت کے لیے مجموعی منافع 86 فیصد سے بڑھا کر 88 فیصد اور سات سال کے لیے 109 فیصد سے بڑھا کر 113 فیصد کردیا گیا ہے۔
اسی طرح آٹھ سال کی مدت کے لیے مجموعی منافع 136 فیصد سے بڑھ کر 142 فیصد، نو سال کے لیے 168 فیصد سے بڑھ کر 176 فیصد اور دس سال کی مدت کے لیے 205 فیصد سے بڑھا کر 215 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ یہ شرحیں پوری متعلقہ مدت کے مجموعی منافع کو ظاہر کرتی ہیں، سالانہ منافع کو نہیں۔
مختصر مدت کے سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ تین ماہ کے سرٹیفکیٹس پر سالانہ منافع کی شرح 10.80 فیصد سے بڑھا کر 11.12 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ طویل مدت والے دیگر شارٹ ٹرم سرٹیفکیٹس پر نئی شرحیں 11.72 فیصد تک مقرر کی گئی ہیں۔
اسلامی اصولوں کے مطابق چلنے والی قومی بچت اسکیموں میں بھی منافع بڑھایا گیا ہے۔ سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹس کے لیے مختلف مدتوں کے حساب سے شرحیں 11.84 فیصد سے 12.12 فیصد کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔
سروا اسلامک سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 11.33 فیصد سے بڑھا کر 11.84 فیصد کردی گئی ہے۔ تاہم عام سیونگ اکاؤنٹس پر سالانہ منافع کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے 10 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔
نئے شیڈول کے مطابق قومی بچت اسکیموں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔ ٹیکس فائلرز کے لیے منافع پر 15 فیصد جبکہ نان فائلرز کے لیے 30 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس مقرر ہے۔ متعلقہ قوانین کے تحت جہاں زکوٰۃ کی کٹوتی لازم ہوگی، وہاں اس کا اطلاق بھی ہوگا۔
اس کا مطلب ہے کہ مختلف اسکیموں کے لیے بتائی گئی منافع کی رقم ٹیکس اور دیگر قابل اطلاق کٹوتیوں سے پہلے کی ہے۔ سرمایہ کاروں کو ملنے والی اصل رقم ان کی ٹیکس حیثیت اور متعلقہ اسکیم کے قواعد کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔
قومی بچت کی شرحوں میں اس تبدیلی سے خصوصاً وہ افراد فائدہ اٹھاسکیں گے جو اپنی جمع پونجی سے باقاعدہ ماہانہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔ تاہم سرمایہ کاری سے پہلے متعلقہ اسکیم کی مدت، رقم نکلوانے کی شرائط اور ٹیکس کٹوتیوں کی تفصیلات معلوم کرنا ضروری ہے۔





