الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم میں اے آئی کے استعمال کے لیے نئے قواعد تجویز کردیے
سیاسی جماعتوں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم کا مسودہ جاری، 20 نومبر تک رائے طلب
AI Generated
اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت کے گمراہ کن استعمال کو روکنے کے لیے سیاسی جماعتوں، امیدواروں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم تجویز کردی ہیں۔ متعلقہ فریقوں سے 20 نومبر تک رائے مانگی گئی ہے۔
مجوزہ قواعد کے تحت انتخابی مہم میں مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصاویر، ویڈیوز اور آوازوں کی واضح نشاندہی ضروری ہوگی۔ کسی کی نقل شدہ آواز سے خودکار کال یا پیغام بھیجنے پر ابتدا میں بتانا ہوگا کہ آواز مصنوعی ہے۔
ووٹرز کو دھوکا دینے، شخصیات کی غلط نمائندگی اور جعلی توہین آمیز بیانات پر پابندی تجویز کی گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں خودکار اکاؤنٹس سے لائکس، تبصرے، شیئرز یا فالوورز بڑھا کر حمایت کا مصنوعی تاثر بھی نہیں دے سکیں گی۔
جماعتوں کو ایسے انتخابی مواد کا ریکارڈ محفوظ رکھنا ہوگا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا شخصیات کو تبدیل شدہ مواد پر واضح لیبل لگانا ہوگا، جبکہ معلومات کی درستگی کی قانونی ذمہ داری برقرار رہے گی۔
متعلقہ نگران ادارے تعمیل کی رپورٹس کمیشن کو دیں گے، جو مواد ہٹانے یا لیبل درست کرنے کی ہدایت دے سکے گا۔ انتخابی مبصرین گمراہ کن مواد پھیلائے بغیر کمیشن کو رپورٹ کریں گے اور اپنی رپورٹس یا تصاویر گھڑنے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال نہیں کرسکیں گے۔





