2045 تک لاکھوں انسان خلا میں رہ رہے ہوں گے، جیف بیزوس کی حیران کن پیش گوئی
ایمازون کے بانی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خلائی ٹیکنالوجی میں ترقی مستقبل میں انسانوں کے رہنے اور کام کرنے کے انداز کو بدل سکتی ہے۔
دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 20 برسوں کے دوران لاکھوں انسان زمین سے باہر خلا میں رہائش اختیار کر رہے ہوں گے۔ ان کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی اور روبوٹکس میں ترقی انسانی زندگی کے لیے ایسے مواقع پیدا کرسکتی ہے جن کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔
جیف بیزوس نے یہ خیالات اٹلی میں منعقدہ ٹیک ویک 2025 کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پیش کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں انسانوں کے پاس مستقبل کے بارے میں پُرامید رہنے کی کئی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ نئی ایجادات زندگی کے مختلف شعبوں میں تبدیلیاں لا رہی ہیں۔
بیزوس کے مطابق آنے والی دو دہائیوں میں خلا میں رہائش صرف چند خلا بازوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بڑی تعداد میں عام افراد بھی وہاں رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگ خلا میں اپنی دلچسپی اور خواہش کے تحت رہائش اختیار کریں گے، نہ کہ کسی مجبوری کے باعث۔
ان کا کہنا تھا کہ چاند یا دیگر سیاروں پر مشکل کام انجام دینے کے لیے ہر مرتبہ انسانوں کو بھیجنا ضروری نہیں ہوگا۔ جدید روبوٹس ایسے کام زیادہ مؤثر اور نسبتاً کم خرچ انداز میں انجام دے سکیں گے۔
جیف بیزوس نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق خدشات پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجی بعض شعبوں میں کام کرنے کے طریقے ضرور بدلتی ہے، لیکن مجموعی طور پر انسانی معاشرے میں ترقی اور خوش حالی کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے تاریخی ایجادات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں سال پہلے ہل جیسی سادہ ایجاد نے بھی انسانوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی پیدا کی تھی۔ ان کے خیال میں مصنوعی ذہانت اور دوسری جدید ٹیکنالوجیز مستقبل میں اسی طرح اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
خلائی صنعت سے وابستہ دیگر معروف شخصیات بھی مستقبل میں زمین سے باہر رہائش اور ملازمتوں کے امکانات کے بارے میں پیش گوئیاں کرچکی ہیں۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کے مطابق آنے والے برسوں میں یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کو خلا میں نئی اور زیادہ معاوضے والی ملازمتیں مل سکتی ہیں۔
سیم آلٹمین کا خیال ہے کہ مستقبل میں نوجوانوں کے لیے ایسے پیشے سامنے آسکتے ہیں جو ان سے پہلے کی نسلوں کو دستیاب ملازمتوں سے بالکل مختلف اور زیادہ دلچسپ ہوں گے۔ تاہم یہ ان کی مستقبل کے بارے میں توقع ہے، کسی باقاعدہ ملازمت پروگرام کا اعلان نہیں۔
دوسری جانب اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک بھی انسانوں کو دوسرے سیاروں تک پہنچانے کے منصوبوں کے حامی ہیں۔ وہ 2028 تک مریخ پر انسانوں کی آمد کا امکان ظاہر کرچکے ہیں، جبکہ اس سے پہلے بغیر انسانی عملے کے خلائی پروازوں کی آزمائشوں پر بھی بات کی گئی ہے۔
اسی طرح خلائی ٹیکنالوجی کی کمپنی وائجر ٹیکنالوجیز کے بانی ڈیلن ٹیلر نے اگست 2026 میں کہا تھا کہ خلا میں انسانوں کی رہائش اور کام کرنے کا تصور اب محض سائنس فکشن تک محدود نہیں رہا۔ ان کے مطابق اس سمت میں عملی پیش رفت 2030 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں شروع ہوسکتی ہے۔
اگرچہ خلائی صنعت کی بڑی شخصیات مستقبل میں انسانی آبادکاری کے امکانات پر پُرامید ہیں، لیکن خلا میں لاکھوں افراد کی مستقل رہائش کے لیے ابھی کئی بڑے مسائل حل کرنا باقی ہیں۔ ان میں محفوظ رہائشی انتظامات، خوراک اور پانی کی فراہمی، طبی سہولیات، خلائی تابکاری سے تحفظ اور سفر کے اخراجات شامل ہیں۔
فی الحال خلا میں لاکھوں انسانوں کی آبادکاری کا کوئی تصدیق شدہ منصوبہ یا حتمی شیڈول موجود نہیں۔ جیف بیزوس کی پیش گوئی ٹیکنالوجی کی ممکنہ ترقی سے متعلق ان کے تصور کی عکاسی کرتی ہے، جس کے حقیقت بننے کا انحصار آنے والے برسوں میں سائنسی اور عملی پیش رفت پر ہوگا۔





