رات کو سانس لینے میں دشواری، روزمرہ کی کون سی عادات مددگار ہوسکتی ہیں؟
متوازن غذا، مناسب پانی اور آلودگی سے بچاؤ مفید، بار بار سانس رکنے یا ہانپتے ہوئے جاگنے پر طبی معائنہ ضروری
AI Generated
ناک بند ہونے، نزلہ زکام یا سانس کی بیماریوں کے باعث رات کو سانس لینے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ بعض افراد ہانپتے ہوئے جاگ جاتے ہیں، جبکہ منہ سے سانس لینے سے گلا خشک ہوسکتا ہے۔ مسئلہ مسلسل رہے تو نیند اور روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
متوازن غذا مجموعی صحت کے لیے مفید ہے، تاہم کسی ایک خوراک سے پھیپھڑوں کی تمام بیماریوں سے تحفظ نہیں ملتا۔ مناسب پانی بلغم پتلا رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن دل یا گردوں کے مریض پانی کی مقدار کے بارے میں معالج کی ہدایت پر عمل کریں۔
واک اور سانس کی بعض مشقیں جسمانی برداشت بہتر بنا سکتی ہیں۔ سانس کے مریض اپنی استطاعت کے مطابق سرگرمی کریں اور غیر معمولی سانس پھولنے یا سینے میں تکلیف پر رک جائیں۔
دھوئیں، گردوغبار اور آلودہ ہوا سے بچیں اور تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں۔ ناک کی بندش میں نمکین پانی کا اسپرے مدد دے سکتا ہے۔ کھولتے پانی کی بھاپ سے جلنے کا خطرہ ہوتا ہے اور اس کے فوائد کے شواہد محدود ہیں۔
سانس کی شدید دشواری، بات نہ کرپانے، سینے میں بھاری پن یا ہونٹ نیلے پڑنے پر فوری ہنگامی طبی مدد لیں۔ بار بار ہانپتے ہوئے جاگنے یا لیٹنے سے سانس کی تکلیف بڑھنے پر بھی ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ علاج کا انحصار اصل وجہ پر ہوتا ہے۔





