دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست جاری، لاہور اور کراچی نمایاں

لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 200 تک پہنچ گیا، برکی روڈ پر آلودگی کی شرح 271 ریکارڈ؛ عالمی فہرست میں دہلی پہلے اور کراچی تیسرے نمبر پر رہا۔

دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست جاری، لاہور اور کراچی نمایاں

لاہور: پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک مرتبہ پھر تشویشناک ہوگئی ہے۔ منگل 20 اکتوبر کو جاری ہونے والی عالمی فضائی معیار کی درجہ بندی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں دوسرے نمبر پر آگیا۔

فضائی معیار کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ کے اعدادوشمار کے مطابق لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 200 ریکارڈ کیا گیا۔ اس سطح کی آلودگی شہریوں، خصوصاً سانس اور دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شدت یکساں نہیں رہی۔ برکی روڈ پر اے کیو آئی 271 ریکارڈ کیا گیا، جو شہر کے دیگر رپورٹ کردہ علاقوں کے مقابلے میں زیادہ تھا۔ اقبال ٹاؤن میں فضائی آلودگی کا اشاریہ 215 جبکہ ماڈل ٹاؤن میں 203 تک پہنچ گیا۔

اسی طرح بیدیاں روڈ پر ایئر کوالٹی انڈیکس 193 اور ڈیفنس میں 189 ریکارڈ کیا گیا۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور کے متعدد رہائشی علاقوں میں فضائی معیار صحت کے لیے نقصان دہ سطح تک پہنچ چکا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسی وقت دنیا کے بڑے شہروں کی فضائی آلودگی کی فہرست میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پہلے نمبر پر تھا، لاہور دوسرے جبکہ کراچی تیسرے نمبر پر موجود تھا۔ تاہم یہ درجہ بندی مستقل نہیں ہوتی اور دن کے مختلف اوقات میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی فضائی آلودگی کی بلند سطح سامنے آئی۔ رپورٹ کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملتان میں اے کیو آئی 244، مظفرگڑھ میں 224 اور پشاور میں 219 ریکارڈ کیا گیا۔

گوجرانوالہ میں آلودگی کا اشاریہ 211 جبکہ رحیم یار خان میں 188 رہا۔ اس طرح فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہری علاقوں میں بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

ایئر کوالٹی انڈیکس ایک پیمانہ ہے جس سے فضا میں موجود آلودگی کی شدت ظاہر کی جاتی ہے۔ عام طور پر 151 سے 200 تک کا اشاریہ غیر صحت بخش جبکہ 201 سے 300 تک کی سطح انتہائی غیر صحت بخش تصور کی جاتی ہے۔ 301 یا اس سے زیادہ کا اشاریہ صحت کے لیے خطرناک درجے میں آتا ہے۔

فضائی آلودگی میں اضافے کے دوران بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ طبی ماہرین عمومی طور پر ایسے حالات میں غیر ضروری بیرونی سرگرمیاں محدود رکھنے اور زیادہ آلودہ علاقوں میں مناسب حفاظتی ماسک استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب کے سرکاری ماحولیاتی نگرانی نظام نے 20 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 160 ظاہر کیا۔ اس فرق کی وجہ مختلف نگرانی کے مراکز، اوقات اور پیمائش کے طریقے ہوسکتے ہیں۔

سرکاری نظام کے مطابق اسی وقت برکی روڈ پر اے کیو آئی 177، ڈی ایچ اے فیز 6 میں 174 اور کاہنہ نو میں 167 ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی کے اعدادوشمار وقت اور مقام کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

ماحولیاتی صورتحال کے پیش نظر شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فضائی معیار کی تازہ معلومات دیکھ کر اپنی روزمرہ سرگرمیوں کا فیصلہ کریں۔ خصوصاً صبح اور شام کے اوقات میں آلودگی بڑھنے کی صورت میں بچوں اور حساس افراد کی بیرونی سرگرمیوں میں احتیاط مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

خبر شیئر کریں: