لیمبورگینی کی نئی ہائبرڈ گاڑی، قیمت 9 کروڑ روپے سے زائد اور رفتار حیران کن
یورس ایس ای صرف 3.4 سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرسکتی ہے، جدید ہائبرڈ نظام کے ساتھ 56 کلومیٹر تک بجلی پر چلنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
AI Generated
لندن: دنیا کی مشہور لگژری گاڑیاں بنانے والی اطالوی کمپنی لیمبورگینی نے اپنی پہلی پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو وی، یورس ایس ای (Urus SE)، میں طاقتور پیٹرول انجن اور جدید الیکٹرک ٹیکنالوجی کو یکجا کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ گاڑی انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ روزمرہ سفر کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔
نئی گاڑی کی کارکردگی کا جائزہ لینے والے برطانوی موٹرنگ صحافی شان اوگریڈی کے مطابق لیمبورگینی یورس ایس ای رفتار، آرام اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کے باعث لگژری گاڑیوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
کمپنی کے دعوے کے مطابق یورس ایس ای کی زیادہ سے زیادہ رفتار 194 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 312 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہ گاڑی صرف 3.4 سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرسکتی ہے۔
گاڑی میں چار لیٹر کا ٹوئن ٹربو وی 8 پیٹرول انجن نصب ہے، جس کے ساتھ الیکٹرک موٹر بھی کام کرتی ہے۔ دونوں نظام مل کر تقریباً 800 پی ایس طاقت فراہم کرتے ہیں۔ اس میں آٹھ اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس اور چاروں پہیوں کو طاقت فراہم کرنے والا نظام موجود ہے۔
یورس ایس ای کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسے صرف بجلی پر بھی چلایا جاسکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق مکمل الیکٹرک موڈ میں یہ تقریباً 56 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مختصر شہری سفر کے دوران پیٹرول کے استعمال میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
اس گاڑی کے پلگ اِن ہائبرڈ نظام کا مطلب ہے کہ اس کی بیٹری کو بیرونی بجلی کے ذریعے چارج کیا جاسکتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر پیٹرول انجن بھی گاڑی کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح ڈرائیور سفر کی نوعیت کے مطابق دونوں نظاموں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
لیمبورگینی نے گاڑی میں مختلف ڈرائیونگ موڈز فراہم کیے ہیں، جنہیں سڑک اور موسم کی صورتحال کے مطابق منتخب کیا جاسکتا ہے۔ ان میں عام سڑک، ریسنگ ٹریک، ریت، ہلکے آف روڈ راستوں اور برف پر ڈرائیونگ کے لیے الگ نظام شامل ہیں۔
گاڑی کا اندرونی حصہ بھی جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔ ڈرائیور اپنی ضرورت کے مطابق مختلف کنٹرولز اور گاڑی کی کارکردگی کو تبدیل کرسکتا ہے، جبکہ اندرونی اور بیرونی ڈیزائن میں ذاتی پسند کے مطابق تبدیلیوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔
موٹرنگ جائزے کے مطابق یورس ایس ای کا وزن تقریباً ڈھائی ٹن ہے، تاہم طاقتور انجن، مؤثر بریکنگ سسٹم اور جدید استحکام برقرار رکھنے والے نظام کی وجہ سے تیز رفتاری اور موڑ کاٹنے کے دوران بھی اس کی کارکردگی متاثر کن رہتی ہے۔
ماحولیاتی کارکردگی کے حوالے سے گاڑی کے سرکاری WLTP ٹیسٹ کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 51 گرام فی کلومیٹر بتایا گیا ہے۔ یہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی کے مخصوص معیاری ٹیسٹ کا نتیجہ ہے، جبکہ حقیقی استعمال میں اخراج کا انحصار بیٹری چارج ہونے اور ڈرائیونگ کے انداز پر ہوگا۔
یورس ایس ای کا مقابلہ لگژری ایس یو وی مارکیٹ میں رولز رائس کلینن، فیراری پوروسانگوئے، پورش کاین ٹربو جی ٹی، آڈی آر ایس کیو 8 اور بینٹلے بینٹائگا جیسی مہنگی گاڑیوں سے ہے۔
لیمبورگینی نے یورس کے جدید ماڈل میں پیٹرول اور بجلی کی مشترکہ ٹیکنالوجی کو ترجیح دی ہے، جبکہ خالص پیٹرول پر چلنے والا پرانا ورژن اب کمپنی کی موجودہ پیشکش کا حصہ نہیں ہے۔
قیمت کے اعتبار سے یورس ایس ای عام صارفین کی پہنچ سے کافی دور ہے۔ برطانیہ میں اس کی ابتدائی قیمت تقریباً دو لاکھ آٹھ ہزار پاؤنڈ بتائی گئی ہے، جبکہ جائزے میں استعمال ہونے والے ماڈل کی قیمت تقریباً ڈھائی لاکھ پاؤنڈ، یعنی 9 کروڑ پاکستانی روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ پاکستانی روپے میں یہ تخمینہ شرح مبادلہ کے مطابق تبدیل ہوسکتا ہے اور اس میں پاکستان کی درآمدی ڈیوٹی یا دیگر مقامی ٹیکس شامل نہیں ہیں۔
کمپنی آئندہ سال یورس کا مزید طاقتور پرفورمانتے ورژن متعارف کرانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے، جس میں گاڑی کا وزن کم کرنے کے لیے زیادہ کاربن فائبر استعمال کیے جانے کی توقع ہے۔ اس مجوزہ ماڈل کی قیمت تین لاکھ پاؤنڈ سے تجاوز کرسکتی ہے۔
موٹرنگ جائزے میں یورس ایس ای کو ایک ایسی گاڑی قرار دیا گیا ہے جو تیز رفتار سپورٹس کار کی کارکردگی اور لگژری ایس یو وی کی سہولتیں ایک ساتھ فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس کی بلند قیمت اسے دنیا کی انتہائی مہنگی گاڑیوں میں شامل کرتی ہے۔





