ایک سے تین سال کے بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے کون سی غذائیں ضروری ہیں؟ والدین جان لیں
طبی ماہرین کے مطابق کم عمری میں ضروری وٹامنز اور معدنیات کی کمی بچوں کی جسمانی نشوونما، ہڈیوں اور قوتِ مدافعت کو متاثر کرسکتی ہے۔
ایک سے تین سال کی عمر بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کا اہم مرحلہ ہوتی ہے، جس دوران متوازن غذا کی فراہمی نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس عمر میں بعض بچے کھانے سے انکار کرتے ہیں یا کم مقدار میں غذا کھاتے ہیں، جس کے باعث ضروری غذائی اجزا کی کمی پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے وٹامن اے، ڈی، کے، آئرن اور کیلشیم کو غذا میں شامل کرنا اہم ہے۔
وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی میں مدد دیتا ہے، جبکہ وٹامن اے بینائی اور قوتِ مدافعت کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح وٹامن کے خون جمنے کے قدرتی عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آئرن خون کے سرخ خلیوں کی تیاری اور خون کی کمی سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے، جبکہ کیلشیم بچوں کی ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ان غذائی اجزا کے حصول کے لیے بچوں کو عمر کے مطابق دودھ، انڈے، مچھلی، گوشت، سبزیاں اور پھل دیے جاسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو دن بھر میں تین بنیادی کھانوں کے ساتھ دو سے تین ہلکے غذائی وقفے دینا مفید ہوسکتا ہے، تاہم خوراک کی مقدار بچے کی بھوک اور ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے۔
والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بچوں میں غذائی کمی کا شبہ ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور طبی مشورے کے بغیر وٹامن سپلیمنٹس استعمال نہ کرائیں۔





