مہمند ڈیم کی لاگت دگنی سے بھی زیادہ، 356 ارب اضافے سے نیا تخمینہ 666 ارب روپے ہوگیا
واپڈا نے لاگت میں 356 ارب روپے اضافے کی تجویز پیش کردی، نظرثانی شدہ تخمینے کی منظوری ابھی باقی ہے
اسلام آباد: زیرِ تعمیر مہمند ڈیم کی تخمینی لاگت آٹھ برس میں 310 ارب سے بڑھ کر 666 ارب روپے ہوگئی ہے۔ واپڈا نے 356 ارب روپے، یعنی تقریباً 115 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔
نظرثانی شدہ تخمینہ رواں ہفتے سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں پیش کیا گیا، تاہم وقت کی کمی کے باعث فیصلہ نہیں ہوسکا۔ اس فورم کے بعد منصوبہ حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی، ایکنک، کو بھیجا جائے گا۔
منصوبہ اپریل 2018 میں منظور ہوا تھا اور تکمیل کا ہدف ستمبر 2025 تھا۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ ماہ تک 275 ارب روپے خرچ ہوئے، جبکہ تعمیراتی کام تقریباً 57 فیصد مکمل تھا۔
حکام نے روپے کی قدر میں کمی، ڈیزائن میں تبدیلیوں، 2022 کے سیلاب اور سکیورٹی مشکلات کو اضافے اور تاخیر کی وجوہات بتایا ہے۔ واپڈا کے مطابق اضافے کا تقریباً 51 فیصد حصہ شرحِ تبادلہ سے متعلق ہے۔
پلاننگ کمیشن نے ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے مالی اور تعمیراتی پیش رفت کی آزادانہ جانچ اور نظرثانی شدہ مالی منصوبے کی سفارش کی ہے۔ ڈیم سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 12 لاکھ 90 ہزار ایکڑ فٹ اضافے کی توقع ہے۔





