گنی بساؤ میں نومولود بچوں پر امریکی حمایت یافتہ ویکسین ٹرائل روک دیا گیا
ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین تاخیر سے دینے کے اثرات پر تحقیق ہونا تھی، حکومتی منظوری نہ ملنے پر منصوبہ آگے نہیں بڑھے گا
افریقی ملک گنی بساؤ میں نومولود بچوں کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین دینے کے وقت سے متعلق متنازع تحقیق روک دی گئی ہے۔ امریکی مالی معاونت سے مجوزہ اس منصوبے پر ماہرین نے اخلاقی اعتراضات اٹھائے تھے۔
تحقیق کے مرکزی سربراہ، ڈنمارک کے محقق فریڈرک شالٹز بوخولزر نے بدھ 21 اکتوبر کو لنکڈ اِن پر تصدیق کی کہ منصوبہ گنی بساؤ میں آگے نہیں بڑھے گا۔ ان کے مطابق ضروری حکومتی منظوری نہیں مل سکی۔
اس تحقیق میں نومولود بچوں کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین تاخیر سے دینے کے صحت پر اثرات کا جائزہ لیا جانا تھا۔ منصوبے کے لیے امریکی ادارے سی ڈی سی اور نجی شراکت داروں نے مجموعی طور پر 32 لاکھ ڈالر فراہم کرنا تھے۔
فلاڈیلفیا کے چلڈرنز ہاسپٹل کے ماہرِ ویکسین پال آفٹ نے تحقیق کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب وسائل زیادہ سے زیادہ بچوں کی ویکسینیشن پر خرچ ہونے چاہییں۔
حکام نے بینڈم ہیلتھ پروجیکٹ کے دفاتر کی تلاشی کے دوران ویکسینیں اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گنی بساؤ میں تمام نومولود بچوں کو پیدائش کے وقت پہلی خوراک دینے کا ملک گیر پروگرام 2028 میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت تمام بچوں کو پیدائش کے بعد جلد از جلد، پہلے 24 گھنٹوں کے اندر، ہیپاٹائٹس بی کی پہلی خوراک دینے کی سفارش کرتا ہے۔





