بلیو بیریز کھانے سے بزرگ افراد کی ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

نئی تحقیق میں 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی آنتوں کے مفید جرثوموں اور ڈپریشن کی علامات کا جائزہ لیا گیا، ابتدائی نتائج امید افزا مگر حتمی نہیں۔

بلیو بیریز کھانے سے بزرگ افراد کی ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

بلیو بیریز کا باقاعدہ استعمال بڑی عمر کے افراد کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہوسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے کی گئی ایک نئی تحقیق میں آنتوں کے جرثوموں اور ڈپریشن کی علامات کے درمیان دلچسپ تعلق سامنے آیا ہے، تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ ابھی اس کے فوائد کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

سائنسی جریدے جرنل آف نیوٹریشن، ہیلتھ اینڈ ایجنگ میں شائع ہونے والی ابتدائی تحقیق میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے 18 افراد کو شامل کیا گیا۔ ان افراد کی جسمانی سرگرمیاں محدود تھیں اور وہ ڈپریشن کی ہلکی علامات کا سامنا کررہے تھے۔

محققین نے شرکا کو دو گروپوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروپ کو روزانہ 48 گرام خشک بلیو بیری پاؤڈر دیا گیا، جو تقریباً دو کپ تازہ بلیو بیریز کے برابر تھا، جبکہ دوسرے گروپ کو ایسا متبادل پاؤڈر فراہم کیا گیا جس میں بلیو بیریز کے مؤثر اجزا موجود نہیں تھے۔

یہ تجربہ تین ماہ تک جاری رہا۔ اس دوران محققین نے سوال ناموں کے ذریعے شرکا کی ذہنی کیفیت اور ڈپریشن کی علامات کا جائزہ لیا۔ ساتھ ہی آنتوں میں موجود جرثوموں کی سرگرمی اور ان سے پیدا ہونے والے مخصوص کیمیائی مادوں کا بھی تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق میں خاص طور پر آنتوں اور دماغ کے درمیان رابطے کے نظام پر توجہ دی گئی۔ سائنسی زبان میں اسے گٹ برین ایکسس کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے آنتوں کے جرثومے اور ان کی پیدا کردہ کیمیائی تبدیلیاں دماغی افعال اور جسم کے دوسرے نظاموں سے تعلق رکھ سکتی ہیں۔

بلیو بیریز میں فائبر اور اینتھوسائننز نامی قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ یہی مرکبات پھل کو اس کا مخصوص نیلا اور جامنی رنگ دیتے ہیں اور ان کے ممکنہ صحت بخش اثرات پر کئی برسوں سے تحقیق کی جارہی ہے۔

تجربے کے نتائج میں بلیو بیری استعمال کرنے والے شرکا کے اندر ڈپریشن کی علامات میں نسبتاً زیادہ اور مسلسل کمی دیکھی گئی۔ تاہم جب اس گروپ کے نتائج کا دوسرے گروپ سے موازنہ کیا گیا تو دونوں کے درمیان فرق شماریاتی اعتبار سے نمایاں نہیں تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تحقیق میں نظر آنے والی بہتری کو صرف بلیو بیریز کے استعمال کا ثابت شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ محققین کے مطابق شرکا کی محدود تعداد بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ زیادہ افراد پر مزید تجربات کیے جائیں۔

تحقیق کے دوران آنتوں کے جرثوموں سے متعلق بعض حیاتیاتی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ محققین کی دلچسپی اس بات میں تھی کہ آیا بلیو بیریز میں موجود قدرتی اجزا آنتوں کے جرثوموں کی سرگرمی بدل کر ذہنی کیفیت پر بالواسطہ اثر ڈال سکتے ہیں۔

اس سے قبل ہونے والی بعض تحقیقات میں بلیو بیریز کے استعمال سے بڑی عمر کے افراد کی یادداشت، خون کی شریانوں کے افعال اور بلڈ پریشر میں محدود بہتری کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔ تاہم مختلف مطالعات کے نتائج یکساں نہیں رہے، اس لیے ان فوائد کو ہر فرد کے لیے یقینی نہیں سمجھا جاسکتا۔

ماہرین کے مطابق نئی تحقیق کی اہمیت اس بات میں ہے کہ اس نے بزرگ افراد کی ذہنی صحت اور غذا کے درمیان ممکنہ تعلق کی مزید جانچ کے لیے ایک راستہ فراہم کیا ہے۔ مستقبل میں زیادہ شرکا اور طویل مدت پر مشتمل تحقیقات سے یہ واضح ہوسکے گا کہ بلیو بیریز واقعی ڈپریشن کی علامات کم کرنے میں مدد دیتی ہیں یا نہیں۔

بلیو بیریز متوازن غذا کا حصہ بن سکتی ہیں، لیکن انہیں ڈپریشن یا کسی دوسری بیماری کے علاج کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔ ذہنی صحت کی مسلسل علامات کی صورت میں مستند طبی ماہر سے مشورہ ضروری ہے۔

خبر شیئر کریں: