گنج پن کے شکار مردوں کے لیے خوشخبری، نئی گولی سے صرف 6 ماہ میں بال دوبارہ اگنے لگے
امریکی کمپنی کی تیار کردہ دوا VDPHL01 کے آخری مرحلے کے تجربات میں 500 سے زائد مردوں نے حصہ لیا، تاہم دوا ابھی عام استعمال کے لیے منظور نہیں ہوئی۔
AI Generated
واشنگٹن: بالوں کے جھڑنے اور گنج پن سے پریشان مردوں کے لیے ایک نئی دوا کے تجربات میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ امریکی دوا ساز کمپنی ویراڈرمکس (Veradermics) کے مطابق گولی کی شکل میں تیار کی گئی دوا VDPHL01 کے استعمال سے چھ ماہ کے دوران مردوں کے بالوں کی تعداد اور گھنے پن میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
کمپنی نے 19 اکتوبر کو جاری کردہ نتائج میں بتایا کہ دوا کے تیسرے مرحلے کے طبی تجربات میں 536 ایسے مردوں کو شامل کیا گیا جنہیں موروثی طور پر بالوں کے جھڑنے یا گنج پن کا معمولی سے درمیانے درجے کا مسئلہ تھا۔
تجربے کے دوران شرکا کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ بعض افراد کو روزانہ ایک مرتبہ، کچھ کو دو مرتبہ دوا دی گئی، جبکہ ایک گروپ کو ایسی گولی دی گئی جس میں اصل دوا شامل نہیں تھی۔ اس طریقے سے محققین نے دوا کے اثرات کا موازنہ کیا۔
کمپنی کے مطابق چھ ماہ بعد روزانہ ایک مرتبہ دوا لینے والے افراد کے سر کے منتخب حصے میں اوسطاً فی مربع سینٹی میٹر 28.6 بالوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ روزانہ دو مرتبہ دوا لینے والوں میں یہ اضافہ 36.4 بال فی مربع سینٹی میٹر رہا۔
اس کے مقابلے میں بغیر اصل دوا والی گولی استعمال کرنے والے گروپ میں اوسطاً 6.6 بال فی مربع سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجرباتی دوا نے بالوں کی افزائش میں مثبت کردار ادا کیا۔
نتائج کے مطابق روزانہ ایک مرتبہ دوا لینے والے تقریباً 79 فیصد اور دو مرتبہ لینے والے 85 فیصد افراد نے اپنے بالوں کی صورتحال میں کسی نہ کسی درجے کی بہتری محسوس کی۔ اس کے مقابلے میں دوسرے گروپ کے تقریباً 35 فیصد افراد نے بہتری کی اطلاع دی۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ بعض شرکا میں علاج کے دوسرے مہینے سے ہی بالوں کی افزائش کے آثار سامنے آنے لگے تھے۔ تاہم ہر شخص میں نتائج یکساں نہیں تھے اور چھ ماہ میں تمام افراد کے بال مکمل طور پر واپس آنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
VDPHL01 دراصل منوکسیڈل (Minoxidil) نامی دوا کی ایک نئی شکل ہے۔ منوکسیڈل پہلے ہی بالوں کے جھڑنے کے علاج میں استعمال ہوتی ہے اور عام طور پر اسے محلول یا فوم کی شکل میں سر کی جلد پر لگایا جاتا ہے۔
نئی دوا کی خاص بات یہ ہے کہ اسے گولی کی شکل میں تیار کیا گیا ہے، جس سے دوا کا اثر بتدریج جسم میں جاری رہتا ہے۔ کمپنی کا مقصد ایسا علاج متعارف کرانا ہے جو بالوں کے جھڑنے سے متاثرہ افراد کے لیے استعمال میں آسان ہو۔
کمپنی کے مطابق تجربات کے دوران دوا عمومی طور پر قابل برداشت رہی اور اس تازہ تحقیق میں دوا سے متعلق کسی سنگین مضر اثر کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوا ہر شخص کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔
منوکسیڈل کی گولی بعض افراد میں بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن سمیت جسم کے دوسرے نظاموں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے ماہر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اسے استعمال کرنا مناسب نہیں، خصوصاً ان افراد کے لیے جو پہلے ہی دل یا بلڈ پریشر کے مسائل سے دوچار ہیں۔
ویراڈرمکس کے مطابق ایک دوسرے طبی تجربے کے نتائج بھی مثبت رہے ہیں۔ دونوں مطالعات میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد افراد کے چھ ماہ کے نتائج حاصل کیے جاچکے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
کمپنی نے ابھی اپنی نئی گولی کی حتمی قیمت کا اعلان نہیں کیا۔ البتہ اس نے بالوں کی صحت کے لیے فروخت ہونے والی ایک معروف سپلیمنٹ کو قیمت کے ممکنہ موازنے کے طور پر پیش کیا ہے، جس کی ماہانہ قیمت تقریباً 90 امریکی ڈالر ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نئی دوا بھی اسی قیمت پر فروخت ہوگی۔
طبی تجربات میں کامیابی کے باوجود VDPHL01 کو ابھی امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ اس لیے یہ دوا فی الحال عام صارفین کے لیے باقاعدہ منظور شدہ علاج نہیں ہے۔
بالوں کے جھڑنے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں موروثی گنج پن کے علاوہ غذائی کمی، ہارمونز میں تبدیلی اور بعض بیماریاں شامل ہیں۔ نئی دوا کے تجربات خاص طور پر مردوں میں موروثی انداز سے بال کم ہونے کے مسئلے پر کیے گئے ہیں، اس لیے اسے ہر قسم کے گنج پن کا علاج قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کمپنی کو امید ہے کہ مزید طبی اور قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد یہ دوا بالوں کے جھڑنے کے علاج میں ایک نیا انتخاب بن سکتی ہے۔ تاہم اس کی عام دستیابی، حتمی قیمت اور طویل مدت تک استعمال کے نتائج کا فیصلہ مزید تحقیق اور متعلقہ اداروں کی منظوری کے بعد ہی ہوگا۔





