پاکستان میں خودکشی کے بڑھتے خدشات، نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اہم سوالات

ایک نئی تجزیاتی تحریر میں ذہنی دباؤ، معاشی مشکلات، علاج کی کمی اور قانونی پیچیدگیوں کو اہم مسائل قرار دیتے ہوئے قومی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستان میں خودکشی کے بڑھتے خدشات، نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اہم سوالاتAI Generated

اسلام آباد: پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل، معاشی دباؤ اور مناسب علاج کی کمی کے باعث خودکشی کی روک تھام ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کو محض قانونی یا سماجی معاملہ سمجھنے کے بجائے صحت عامہ کے ایک سنگین مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو میں شائع ہونے والی ایک تجزیاتی تحریر میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق ڈائریکٹر جنرل ثنا اللہ عباسی نے پاکستان میں خودکشی کے اسباب، دستیاب اعداد و شمار، قانونی صورتحال اور ممکنہ حل کا جائزہ لیا ہے۔

تحریر میں اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو درپیش ذہنی اور سماجی مسائل پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مصنف کے مطابق پاکستان میں خودکشی کے واقعات کا درست ریکارڈ رکھنے کے لیے کوئی جامع قومی نظام موجود نہیں۔ اسی وجہ سے مختلف اداروں اور تحقیقی مطالعات میں سامنے آنے والے اعداد و شمار ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

تحریر میں عالمی ادارہ صحت سے منسوب تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ خودکشی سے ہونے والی اموات کی تعداد تقریباً 13 ہزار سے 19 ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے، جبکہ خودکشی کی کوششوں کی تعداد چار لاکھ سالانہ تک پہنچنے کا اندازہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تخمینے ہیں، ملک بھر میں تصدیق شدہ واقعات کی حتمی تعداد نہیں۔

مختلف طبی مطالعات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نوجوان، خصوصاً 30 سال سے کم عمر افراد، زیادہ متاثر ہونے والے گروہوں میں شامل ہیں۔ پنجاب کے بعض دیہی اضلاع میں ہونے والے پانچ سالہ مطالعے میں خودکشی سے مرنے والے تقریباً 65 فیصد افراد کی عمریں 30 سال سے کم ریکارڈ کی گئیں۔

تجزیے میں ذہنی صحت کی سہولتوں کی کمی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ مصنف نے مختلف مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ملک میں نفسیاتی مسائل سے دوچار افراد کی بڑی تعداد مناسب علاج حاصل نہیں کرپاتی، جبکہ ماہر نفسیات کی دستیابی بھی آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

اس کے علاوہ گھریلو تنازعات، خاندانی تشدد، ازدواجی مسائل، بے روزگاری، مالی مشکلات اور تعلیمی دباؤ کو بھی ایسے عوامل میں شمار کیا گیا ہے جو بعض افراد کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کرسکتے ہیں۔ تاہم کسی ایک واقعے کو خودکشی کی واحد وجہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس کے پیچھے عموماً کئی پیچیدہ عوامل ہوتے ہیں۔

تحریر میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ذہنی دباؤ سے متعلق امدادی کالوں میں گھریلو تنازعات اور خاندانی مسائل نمایاں رہے ہیں۔ اسی طرح نوجوانوں کی ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی متعدد کالیں تعلیم، روزگار اور نفسیاتی پریشانیوں سے متعلق ہوتی ہیں۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے نے میڈیا کی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق خودکشی کے واقعات کی سنسنی خیز کوریج، غیر ضروری تفصیلات اور متاثرہ افراد کے بارے میں غیر محتاط زبان نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس ذمہ دارانہ رپورٹنگ، علاج کے امکانات اور مدد حاصل کرنے کے طریقوں کو نمایاں کرنا زیادہ مفید ہے۔

قانونی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تحریر میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں خودکشی کی کوشش کو ماضی میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 325 کے تحت قابل سزا جرم سمجھا جاتا تھا۔ دسمبر 2022 میں قانون سازی کے ذریعے یہ دفعہ منسوخ کردی گئی تھی تاکہ متاثرہ افراد کو سزا کے بجائے طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔

تاہم مصنف کے مطابق مئی 2026 میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد اس قانونی ترمیم کی حیثیت پر نیا تنازع پیدا ہوا، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ تحریر میں اس صورتحال کو ذہنی صحت سے متعلق قانونی پالیسی کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

تجزیے میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی ہیلپ لائن 15، نیشنل یوتھ ہیلپ لائن اور سندھ کی ٹیلی طبیب سروس 1123 جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کے ذریعے ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے افراد کو مشاورت اور مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مصنف نے تجویز دی ہے کہ پاکستان میں خودکشی کے واقعات کا درست ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے قومی سطح پر ڈیٹا بیس قائم کیا جائے۔ اس کے ساتھ صوبوں کے تعاون سے ایسی جامع پالیسی تیار کی جائے جس میں ذہنی صحت کی سہولتوں، علاج اور عوامی آگاہی کو ترجیح دی جائے۔

تحریر میں تعلیمی اداروں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور مشیروں کو ذہنی دباؤ کی ابتدائی علامات پہچاننے کی تربیت فراہم کی جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر طلبہ کو بروقت پیشہ ورانہ مدد مل سکے۔

اس کے علاوہ بنیادی صحت کے مراکز میں ذہنی صحت کی سہولتوں کو شامل کرنے، طبی عملے کی تربیت بہتر بنانے اور ایسے افراد کے لیے مدد حاصل کرنا آسان بنانے پر زور دیا گیا ہے جو سماجی بدنامی یا قانونی خدشات کے باعث اپنی مشکلات ظاہر نہیں کرپاتے۔

ثنا اللہ عباسی کے مطابق پاکستان میں خودکشی کی روک تھام کے لیے حکومتی پالیسی، سائنسی تحقیق، بہتر علاج اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ ان کا مؤقف ہے کہ بروقت مدد اور مؤثر اقدامات کے ذریعے بہت سی قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

خبر شیئر کریں: