بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر کا مقدمہ، ٹرمپ کو 11 دسمبر کی مہلت

عدالت نے 11 دسمبر تک حلفیہ سوالات کے جواب دینے کا حکم دے دیا، عمل نہ کرنے پر مقدمہ خارج ہوسکتا ہے

بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر کا مقدمہ، ٹرمپ کو 11 دسمبر کی مہلت

واشنگٹن: امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بی بی سی کے خلاف اپنے 10 ارب ڈالر کے مقدمے میں 11 دسمبر تک حلفیہ بیان دینے کا حکم دیا ہے۔ جج نے خبردار کیا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں مقدمہ خارج بھی کیا جاسکتا ہے۔

امریکی مجسٹریٹ جج اینجولیک لیٹ نے جمعرات کو سماعت کے دوران ٹرمپ کو پابند کیا کہ وہ مقررہ تاریخ تک بی بی سی کے وکلا کے سوالات کے جواب حلف کے تحت دیں۔

ٹرمپ کا بیان پہلے 16 اکتوبر کو ریکارڈ ہونا تھا، تاہم انہوں نے قومی اہمیت کی مصروفیات کا حوالہ دے کر اسے منسوخ کردیا تھا۔ بی بی سی کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ اس روز جارجیا میں سیاسی سرگرمیوں میں شریک تھے۔

بی بی سی کا الزام ہے کہ ٹرمپ کی قانونی ٹیم بیان جنوری 2027 تک مؤخر کرنا چاہتی تھی، جبکہ مقدمے میں شواہد جمع کرنے کی مدت 18 دسمبر کو ختم ہورہی ہے۔

مقدمہ بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم سے متعلق ہے، جس میں ٹرمپ کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کے الگ الگ حصے جوڑے گئے تھے۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ اس ایڈیٹنگ سے ناظرین کو یہ گمراہ کن تاثر دیا گیا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے کی ہدایت کی تھی۔

بی بی سی ایڈیٹنگ پر معافی مانگ چکا ہے، تاہم ادارہ قانونی طور پر ہتک عزت کا ذمہ دار ہونے سے انکار کرتا ہے۔

ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں دائر مقدمے میں ہتک عزت اور مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں پر پانچ، پانچ ارب ڈالر ہرجانہ طلب کیا تھا۔ عدالت نے ابھی ان کے دعووں کے حق یا مخالفت میں حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

خبر شیئر کریں: