نیتن یاہو کی کرسی خطرے میں؟ اسرائیلی انتخابات میں سخت مقابلہ

نیتن یاہو کی جماعت اور سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کے اتحاد میں سخت مقابلہ متوقع، حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار

نیتن یاہو کی کرسی خطرے میں؟ اسرائیلی انتخابات میں سخت مقابلہ

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے، جہاں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو اپنے اقتدار کے لیے سخت سیاسی مقابلے کا سامنا ہے۔

یہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے بعد پہلے عام انتخابات ہیں۔ ووٹرز 120 رکنی پارلیمان کنیسٹ کے لیے اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ دے رہے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے دائیں بازو کے اتحادیوں کا مقابلہ سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں قائم حریف اتحاد سے ہے۔ انتخابات سے پہلے کے جائزوں میں دونوں جانب سے حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔

اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے پارلیمان کی 61 نشستوں کی حمایت ضروری ہے۔ کسی ایک جماعت کو اکثریت نہ ملنے کی صورت میں اتحادی حکومت بنانے کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہوں گے، جن میں وقت لگ سکتا ہے۔

نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں جنگ کے دوران اپنی قیادت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو نمایاں کررہے ہیں۔ دوسری جانب ان کے مخالفین 7 اکتوبر کے سکیورٹی حالات پر احتساب اور حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

جیو کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کو حکومت بنانے کے لیے ایک بار پھر اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں اتمار بن گویر اور بیزلیل سموترچ کی حمایت درکار ہوسکتی ہے۔ عرب جماعتوں کی نشستیں بھی حکومت سازی کے امکانات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

اسرائیل میں زیادہ تر پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے کھلے اور رات 10 بجے بند ہوں گے۔ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ابتدائی اندازے سامنے آنے کی توقع ہے۔

خبر شیئر کریں: