بچے مجھے والد کی موت کا ذمہ دار سمجھنے لگے، ابیل جاوید آبدیدہ ہو گئیں
شوہر کی وفات کے بعد تنہا بچوں کی پرورش کا خیال خوف زدہ کرتا رہا، ٹی وی میزبان کی گفتگو۔
کراچی: ٹی وی میزبان ابیل جاوید اپنے شوہر شہزاد کی بیماری اور اچانک انتقال کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ابیل جاوید نے کہا کہ ان کے شوہر بظاہر بیمار نہیں تھے، تاہم انہیں محسوس ہوا کہ جسم میں آکسیجن کی کمی ہے۔ اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے ڈائیلائیسز اور وینٹی لیٹر سمیت مختلف طبی اقدامات کے بارے میں بتایا، جس سے شہزاد گھبرا گئے۔
ابیل جاوید کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کی تشخیص سننے کے صرف چار گھنٹے کے اندر ان کے شوہر کا دل کام کرنا چھوڑ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کو خیریت سے اسپتال لے کر گئی تھیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہوا۔ شوہر کی وفات کے بعد تنہا بچوں کی پرورش کا خیال انہیں خوف زدہ کرتا رہا، جبکہ بچوں نے بھی ابتدا میں انہیں والد کی موت کا ذمہ دار سمجھا، کیونکہ وہ ہی ان کے والد کو اسپتال لے کر گئی تھیں۔
انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی حورین کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسے موت کا مفہوم بھی معلوم نہیں تھا۔ آخری دیدار کے وقت وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے بابا کو بعد میں دیکھے گی، جب وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔ وہ یہ بھی پوچھتی رہی کہ بابا کو کتنے دن قبر میں رہنا ہوگا۔
ابیل جاوید نے اپنے کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بچے اپنے والد کو آوازیں دیتے ہیں، انہیں وائس نوٹس بھیجتے ہیں، لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آتا تو اس خاموشی کو برداشت کرنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔





