جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی، صدر مملکت کو خط لکھ دیا

ذاتی وجوہات اور صحت کے مسائل کا ذکر، آئینی ترامیم کے عدالتی آزادی پر اثرات سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار۔

جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی، صدر مملکت کو خط لکھ دیا

لاہور: اسلام آباد سے لاہور ہائی کورٹ منتقل کیے گئے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے ذاتی وجوہات اور صحت کے مسائل کی بنا پر استعفیٰ دیا اور صدر مملکت کو خط لکھ کر آگاہ کردیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سرجری کے بعد صحت کے مسائل بھی استعفے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینا زندگی کے یادگار ادوار میں شامل ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے خط میں لکھا کہ اپنے دور میں 23 ہزار سے زائد مختلف نوعیت کے مقدمات نمٹائے، آئین کے تحفظ اور بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے کام کیا۔

خط میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا۔ انہوں نے ججوں کی تقرری اور تبادلوں میں انتظامیہ کی بڑھتی مداخلت پر تشویش ظاہر کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔

خبر شیئر کریں: