سوشل میڈیا سے مواد ہٹانے کی پاکستانی درخواستوں پر کمپنیوں کا ردعمل سامنے آگیا
ایکس پر شرح 7.4 اور یوٹیوب پر 1.9 فیصد رہی، وزارت داخلہ کا قومی اسمبلی میں جواب۔
اسلام آباد: سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے ریاست مخالف اور غیر ضروری مواد ہٹانے کے لیے پاکستانی حکام کی درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح کم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی درخواستوں پر مجموعی تعمیل کی شرح 23.7 فیصد ہے، جبکہ ایکس کی شرح 7.4 فیصد اور یوٹیوب کی صرف 1.9 فیصد ہے۔
قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ تفصیلات کے مطابق فیس بک کی جانب سے درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح 38.1 فیصد ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی سے متعلق درخواستوں پر مجموعی تعمیل کی شرح 47 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
وزارت داخلہ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں نے تاحال پی ٹی اے کے سوشل میڈیا قواعد اختیار نہیں کیے۔ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف یا حکومت مخالف مواد کے خلاف سب سے زیادہ درخواستیں پنجاب کی جانب سے کی گئیں، جن کا تناسب 97.7 فیصد بتایا گیا۔
وزارت داخلہ نے بتایا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان آن لائن خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اور منظم رابطہ کاری کا کوئی نظام موجود نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اوپن انٹیلی جنس سیلز کو تربیت یافتہ تجزیہ کاروں اور چوبیس گھنٹے نگرانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے مالی سال 2026-27 کے لیے 2 ارب 98 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز طلب کیے ہیں، تاہم رواں سال کے لیے اسے ایک ارب 33 کروڑ روپے سے زائد جاری کیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ نے مزید بتایا کہ نیکٹا ایک قانونی انسداد دہشت گردی ادارہ ہے، جس کے پاس گرفتاری اور قانون نافذ کرنے کے اختیارات نہیں۔ نیکٹا کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم ڈویژن میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔





