اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت
سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی پر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ، سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کا مطالبہ
AI Generated
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتیں 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں، جس سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اوگرا کے مقرر کردہ نرخ تقریباً 280 روپے فی کلو کے مقابلے میں مارکیٹ میں ایل پی جی 580 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمت کے درمیان 320 روپے فی کلو تک فرق پیدا ہو گیا ہے۔شہریوں کے مطابق ایل پی جی کی مہنگے داموں فروخت نے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ خصوصاً وہ گھرانے جو کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں، انہیں گیس کے حصول کے لیے بھاری رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔جڑواں شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اس نمایاں فرق نے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر فروخت کی شکایات درست ہیں تو اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے مؤثر نگرانی اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔شہریوں نے حکومت، اوگرا اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی دکانوں اور فروخت کے مراکز کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے، سرکاری نرخ نمایاں طور پر آویزاں کرائے جائیں اور مقررہ قیمت سے زائد وصولی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔صارفین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دباؤ میں بنیادی گھریلو ضروریات کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول ناگزیر ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ ایل پی جی کی دستیابی، قیمتوں اور تقسیم کے نظام کی نگرانی یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو مقررہ نرخوں پر گیس فراہم کی جا سکے۔





