امریکی طلبہ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال خطرناک حد تک بڑھنے لگا؟
تعلیمی سرگرمیوں میں اے آئی چیٹ بوٹس کا بڑھتا استعمال، 54 فیصد نوجوانوں نے اسکول کے کام میں مدد لینے کا اعتراف کیا، جبکہ بعض طلبہ بیشتر اسائنمنٹس بھی مصنوعی ذہانت سے مکمل کرنے لگے۔
واشنگٹن: امریکا میں طلبہ کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں نوجوان ہوم ورک، اسائنمنٹس اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس سے مدد حاصل کر رہے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق 54 فیصد امریکی نوجوانوں نے بتایا کہ وہ اسکول کے کام میں چیٹ بوٹس استعمال کرچکے ہیں، جبکہ تقریباً 10 فیصد طلبہ اپنا تمام یا بیشتر تعلیمی کام ان کی مدد سے انجام دیتے ہیں۔
ایک دوسرے سروے میں 73 فیصد طلبہ نے تعلیمی سرگرمیوں میں جنریٹو مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کی تصدیق کی۔ ان میں سے 31 فیصد نے بتایا کہ وہ تحریری اسائنمنٹس کے جوابات تیار کرنے کے لیے بھی اے آئی سے مدد لیتے ہیں۔
ایک اور تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی شرح مزید زیادہ سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق امریکا سمیت پانچ ممالک میں کیے گئے سروے میں شامل طلبہ اور اساتذہ میں مجموعی طور پر 95 فیصد سے زائد نے تعلیمی اداروں میں اے آئی کے استعمال کی اطلاع دی۔
مختلف سرویز کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت تعلیمی سرگرمیوں کا اہم حصہ بنتی جارہی ہے، تاہم اس کے بڑھتے استعمال کے ساتھ طلبہ کی آزادانہ سوچ اور تعلیمی صلاحیتوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آرہے ہیں۔





