پاکستان میں سائبر حملوں سے تحفظ کے لیے جدید سیکیورٹی سینٹر قائم
چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے ایس ای سی پی کے نئے مرکز کا افتتاح کیا، اہم ڈیجیٹل نظام کی مسلسل نگرانی اور سائبر خطرات پر فوری کارروائی کی سہولت فراہم ہوگی۔
اسلام آباد: پاکستان میں ڈیجیٹل معلومات اور اہم کمپیوٹر نظام کو سائبر حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے جدید سیکیورٹی آپریشنز سینٹر قائم کردیا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے ادارے کے معلوماتی نظام کی نگرانی، ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور کسی بھی سائبر حملے کی صورت میں فوری کارروائی ممکن بنائی جائے گی۔
ایس ای سی پی کے مطابق نئے سیکیورٹی آپریشنز سینٹر کا افتتاح چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے کیا۔ تقریب میں چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو، کمیشن کے ارکان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
نئے مرکز میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایس ای سی پی کے کمپیوٹر نیٹ ورکس، سرورز اور کلاؤڈ سسٹمز کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جائے گی۔ اس کا مقصد مشکوک سرگرمیوں کی جلد شناخت کرنا اور ممکنہ سائبر حملے سے ادارے کے ڈیٹا اور خدمات کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔
سیکیورٹی آپریشنز سینٹر میں سائبر خطرات کی نشاندہی کے ساتھ ان کے تجزیے اور ان سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس سے ادارے کی ڈیجیٹل خدمات کے تحفظ اور کسی غیر متوقع صورتحال کے دوران کام جاری رکھنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ یہ مرکز بین الاقوامی معیارات اور سائبر سیکیورٹی کے عالمی طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ منصوبے کی تکمیل میں برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے تعاون کے ساتھ کارانداز پاکستان، انارا ٹیکنالوجیز اور ریوٹرز نے بھی کردار ادا کیا۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے چیئرمین نادرا کو ادارے میں جاری انفارمیشن ٹیکنالوجی اصلاحات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی جدید کاری اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس ای سی پی اپنی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا رہا ہے۔ اس عمل میں ڈیجیٹل نظام کو محفوظ بنانا بھی اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
کمیشن نے کیپٹل مارکیٹ سے وابستہ اداروں کو سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک میں شامل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ اس اقدام سے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے، خطرات سے متعلق معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس منصوبے کے تحت ایس ای سی پی کیپٹل مارکیٹ کے لیے شعبہ جاتی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے کردار کو بھی مضبوط بنانا چاہتا ہے، تاکہ ڈیجیٹل حملوں یا سیکیورٹی میں خرابی کی صورت میں متعلقہ ادارے زیادہ مؤثر انداز میں ردعمل دے سکیں۔
پاکستان میں مالیاتی اور کاروباری خدمات تیزی سے ڈیجیٹل نظام پر منتقل ہورہی ہیں۔ ایسے میں سرکاری اور مالیاتی اداروں کے معلوماتی نظام کا تحفظ اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ سائبر حملوں سے حساس ڈیٹا، ادارہ جاتی سرگرمیاں اور صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔
ایس ای سی پی کا نیا سیکیورٹی آپریشنز سینٹر اسی ضرورت کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ تاہم یہ مرکز بنیادی طور پر کمیشن کے ڈیجیٹل نظام اور متعلقہ مالیاتی شعبے کی سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ہے، اسے پورے ملک کے لیے ایک نئے قومی سائبر سیکیورٹی مرکز کے قیام سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے۔





