گوگل کے 4 اے آئی ایجنٹس نے انسانی مدد کے بغیر مائن کرافٹ گیم مکمل کرلی

جیمنائی 4 کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس نے خود حکمت عملی بنائی، 27 گھنٹے میں 2 ہزار 783 پروگرام لکھے اور 605 ناکامیوں کے بعد آخری دشمن کو شکست دے دی۔

گوگل کے 4 اے آئی ایجنٹس نے انسانی مدد کے بغیر مائن کرافٹ گیم مکمل کرلیAI Generated

گوگل کی مصنوعی ذہانت نے کمپیوٹر گیمز کی دنیا میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ کمپنی کے تحقیقی ادارے گوگل ڈیپ مائنڈ کے چار اے آئی ایجنٹس نے معروف ویڈیو گیم مائن کرافٹ میں انسانی مداخلت کے بغیر آخری دشمن کو شکست دے کر مرکزی ہدف مکمل کرلیا۔

تحقیق کے مطابق جیمنائی 4 آرگون ماڈل پر کام کرنے والے چاروں اے آئی ایجنٹس کو مائن کرافٹ کی ایک نئی اور تصادفی طور پر تیار کردہ دنیا میں داخل کیا گیا تھا۔ انہیں صرف ایک ہدف دیا گیا کہ گیم کے آخری دشمن اینڈر ڈریگن کو شکست دینی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ محققین نے ان ایجنٹس کو نہ تو الگ الگ ذمہ داریاں سونپیں اور نہ ہی گیم مکمل کرنے کی کوئی مخصوص حکمت عملی فراہم کی۔ چاروں ایجنٹس نے خود فیصلہ کیا کہ کون سا کام کس نے انجام دینا ہے اور مطلوبہ وسائل کیسے حاصل کرنے ہیں۔

ایجنٹس نے ایک دوسرے سے رابطے کے لیے گیم کے اندر موجود چیٹ سسٹم اور مشترکہ یادداشت استعمال کی۔ وہ خطرناک مقامات کے بارے میں ساتھیوں کو خبردار کرتے، ضروری معلومات اور مقامات کے کوآرڈینیٹس شیئر کرتے اور غلطیوں سے حاصل ہونے والے تجربات ایک دوسرے تک پہنچاتے رہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک ایجنٹ نے اوزار بنانے اور اہم مقامات تلاش کرنے کی ذمہ داری سنبھالی، دوسرے نے خوراک اور سامان جمع کیا، تیسرے نے ضروری پورٹل فعال کرنے میں کردار ادا کیا، جبکہ چوتھے نے دفاعی پناہ گاہیں تیار کیں اور بالآخر اینڈر ڈریگن کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی۔

یہ پورا تجربہ 27 گھنٹے اور 14 منٹ تک جاری رہا۔ اس دوران اے آئی ایجنٹس نے مجموعی طور پر 2 ہزار 783 کمپیوٹر پروگرام خود لکھے اور چلائے، جبکہ آپس میں 229 پیغامات کا تبادلہ کیا۔

کامیابی تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں تھا۔ چاروں ایجنٹس گیم کے دوران مجموعی طور پر 605 مرتبہ ہلاک ہوئے، لیکن ہر ناکامی کے بعد انہوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی اور دوبارہ کوشش جاری رکھی۔

ایجنٹس نے گیم کھیلنے کے لیے مائن فلیئر نامی اوپن سورس سافٹ ویئر لائبریری استعمال کی۔ اس کے ذریعے وہ براہ راست اسکرین دیکھنے یا عام کھلاڑی کی طرح کی بورڈ استعمال کرنے کے بجائے خود تحریر کردہ پروگراموں سے اپنے کرداروں کو کنٹرول کرتے رہے۔

تجربے کی نگرانی کے لیے ایک پانچواں اے آئی ایجنٹ بھی استعمال کیا گیا، جس کا کام سرگرمیوں کا جائزہ لینا اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ محققین کے مطابق تجربے کے دوران انسانی مداخلت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

گوگل ڈیپ مائنڈ کے محققین کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب عمومی نوعیت کے اے آئی ایجنٹس نے مخصوص انسانی تیار کردہ گیم حکمت عملی کے بغیر مائن کرافٹ کا مرکزی ہدف ابتدا سے آخر تک خود مکمل کیا۔

اس تجربے میں تقریباً ایک ارب 35 کروڑ ان پٹ ٹوکن استعمال ہوئے۔ تحقیق کے مطابق کامیابی حاصل کرنے تک کمپیوٹنگ کی تخمینی لاگت تعارفی نرخوں پر تقریباً 520 ڈالر رہی، جبکہ نگرانی سمیت پورے تجربے کی لاگت تقریباً 810 ڈالر بتائی گئی۔

تاہم محققین نے اس کامیابی کی کچھ حدود بھی واضح کی ہیں۔ گیم آسان درجے پر کھیلی گئی اور مائن فلیئر لائبریری کے ذریعے ایجنٹس کو ماحول کی ایسی معلومات دستیاب تھیں جو عام انسانی کھلاڑی کو براہ راست نظر نہیں آتیں۔ اس لیے اس تجربے کو انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان یکساں حالات میں ہونے والا مقابلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

ماہرین کے نزدیک اس تحقیق کی اصل اہمیت صرف ویڈیو گیم میں کامیابی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی طویل مدت تک منصوبہ بندی کرنے، باہمی تعاون سے کام کرنے، غلطیوں کو درست کرنے اور پیچیدہ اہداف مکمل کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہی خصوصیات مستقبل میں سافٹ ویئر کی تیاری، سائنسی تحقیق اور دیگر تکنیکی شعبوں میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

خبر شیئر کریں: