دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کا نظام تبدیل کرنے کا فیصلہ، نئی تبدیلی کب نافذ ہوگی؟

عالمی ماہرین نے اضافی سیکنڈ شامل کرنے کا طریقہ ختم کرنے کی منظوری دے دی، کمپیوٹر نظام میں ممکنہ خرابیوں سے بچاؤ کے لیے نیا فیصلہ 20 مئی 2027 سے نافذ ہوگا

دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کا نظام تبدیل کرنے کا فیصلہ، نئی تبدیلی کب نافذ ہوگی؟AI Generated

پیرس: دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کے بین الاقوامی نظام میں ایک اہم تبدیلی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت عالمی وقت میں اضافی سیکنڈ شامل کرنے کا موجودہ طریقہ ختم کردیا جائے گا۔ یہ فیصلہ جدید کمپیوٹر نظام کو ممکنہ تکنیکی مسائل سے محفوظ رکھنے اور وقت کی پیمائش کو زیادہ مستحکم بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

وزن اور پیمائش سے متعلق جنرل کانفرنس (CGPM) نے 15 اکتوبر 2026 کو فرانس کے شہر ورسائی میں اپنے 28ویں اجلاس کے دوران اس تبدیلی کی منظوری دی۔ فیصلے کے مطابق 20 مئی 2027 سے مربوط عالمی وقت، جسے UTC کہا جاتا ہے، میں اضافی سیکنڈ شامل نہیں کیے جائیں گے۔

اس فیصلے کو سمجھنے کے لیے موجودہ نظام پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ دنیا میں وقت کی درست پیمائش کے لیے انتہائی حساس ایٹمی گھڑیاں استعمال کی جاتی ہیں، جبکہ دن اور رات کا قدرتی دورانیہ زمین کی اپنے محور کے گرد گردش سے وابستہ ہے۔

زمین کی گردش ہمیشہ یکساں رفتار سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں معمولی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے باعث ایٹمی گھڑیوں کے ذریعے ناپے جانے والے وقت اور زمین کی گردش پر مبنی فلکیاتی وقت کے درمیان آہستہ آہستہ فرق پیدا ہوسکتا ہے۔

اس فرق کو محدود رکھنے کے لیے ماضی میں عالمی وقت میں ضرورت کے مطابق ایک اضافی سیکنڈ شامل کیا جاتا رہا ہے، جسے لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد ایٹمی وقت اور زمین کی گردش سے حاصل ہونے والے وقت کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنا تھا۔

تاہم جدید ڈیجیٹل نظام میں اس اضافی سیکنڈ کو سنبھالنا بعض اوقات مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ کمپیوٹر سرورز، ڈیٹا بیس اور مختلف خودکار نظام وقت کے مسلسل اور درست حساب پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے وقت میں اچانک ایک سیکنڈ کا اضافہ تکنیکی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔

ماہرین کے سامنے ایک اور اہم مسئلہ مستقبل میں پہلی مرتبہ منفی لیپ سیکنڈ کی ممکنہ ضرورت کا بھی تھا۔ اس کا مطلب وقت میں ایک سیکنڈ شامل کرنے کے بجائے اسے کم کرنا ہوگا، جسے موجودہ ڈیجیٹل نظام کے لیے مزید پیچیدہ سمجھا جاتا ہے۔

نئے فیصلے کے تحت 20 مئی 2027 سے UTC میں اضافی سیکنڈ شامل کرنے کے لیے وقفہ نہیں کیا جائے گا اور وقت کا بین الاقوامی معیار مسلسل آگے بڑھتا رہے گا۔ اس سے مختلف ممالک اور کمپیوٹر نظاموں کے درمیان وقت کی یکسانیت برقرار رکھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس تبدیلی کا مطلب عام گھڑیوں میں ایک گھنٹے کا اضافہ یا کمی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ وقت کی انتہائی باریک پیمائش سے متعلق ہے اور عام شہریوں کے روزمرہ معمولات میں فوری تبدیلی متوقع نہیں۔

عالمی وقت کے نظام میں اس تبدیلی کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ جدید مواصلاتی اور کمپیوٹر نظام کے لیے وقت کی مسلسل اور قابل اعتماد پیمائش بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

خبر شیئر کریں: