نئے فولڈ ایبل آئی فون کی ریکارڈ مانگ، چند منٹ میں اسٹاک ختم

آئی فون ڈوؤ کی پیشگی بکنگ شروع ہوتے ہی ایپل کی ویب سائٹ پر صارفین کو مشکلات کا سامنا، 1999 ڈالر کے فون کی بعض ڈیلیوریز جنوری 2027 تک پہنچ گئیں۔

نئے فولڈ ایبل آئی فون کی ریکارڈ مانگ، چند منٹ میں اسٹاک ختم

نیویارک: ایپل کے پہلے فولڈ ایبل اسمارٹ فون آئی فون ڈوؤ (iPhone Duo) کی فروخت شروع ہونے سے پہلے ہی غیر معمولی مانگ سامنے آگئی۔ پیشگی بکنگ کھلنے کے چند منٹ بعد ابتدائی اسٹاک کی ڈیلیوری کی تاریخیں آگے بڑھ گئیں، جبکہ بڑی تعداد میں صارفین کے بیک وقت ویب سائٹ پر آنے سے آن لائن اسٹور پر تکنیکی مسائل بھی پیدا ہوگئے۔

ایپل نے جمعہ 16 اکتوبر کو امریکا میں صبح پانچ بجے پیسیفک وقت کے مطابق آئی فون ڈوؤ کے پیشگی آرڈرز لینا شروع کیے۔ صارفین کمپنی کی سرکاری ویب سائٹ اور ایپل اسٹور ایپ کے ذریعے اپنا پسندیدہ ماڈل بک کراسکتے تھے۔

تاہم بکنگ شروع ہوتے ہی بعض صارفین کو ویب سائٹ کھولنے، صفحات لوڈ ہونے اور آرڈر مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ خریداروں نے شکایت کی کہ پیشگی تیار کردہ آرڈرز بھی بروقت مکمل نہیں ہوسکے۔ بعد میں آن لائن اسٹور معمول کے مطابق کام کرنے لگا۔

ایپل نے پیشگی بکنگ سے چند گھنٹے پہلے اپنی ویب سائٹ عارضی طور پر بند کردی تھی۔ یہ کمپنی کا معمول کا طریقہ ہے، جس کے تحت نئی مصنوعات کے آرڈرز شروع ہونے سے پہلے آن لائن اسٹور کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ اس لیے ابتدائی بندش کو تکنیکی خرابی قرار دینا درست نہیں، البتہ بکنگ کھلنے کے بعد بعض صارفین کو الگ تکنیکی مسائل پیش آئے۔

آئی فون ڈوؤ کی بکنگ شروع ہونے کے تقریباً 15 منٹ کے اندر 23 اکتوبر کی ابتدائی ڈیلیوری کے لیے دستیاب اسٹاک ختم ہوگیا۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں امریکا میں مختلف ماڈلز کی آن لائن ڈیلیوری کے اندازے جنوری 2027 کے آخر تک پہنچ گئے۔

ایپل نے بھی نئے فون کی غیر معمولی مانگ کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کے مطابق پیشگی آرڈرز کی تعداد توقعات سے زیادہ رہی، جبکہ وہ صارفین تک فون جلد پہنچانے کے لیے سپلائی بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔

آئی فون ڈوؤ ایپل کا پہلا ایسا اسمارٹ فون ہے جسے کتاب کی طرح کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ فون بند ہونے پر اس کی بیرونی اسکرین 5.4 انچ کی ہے، جبکہ کھولنے پر صارفین کو 7.6 انچ کا بڑا ڈسپلے ملتا ہے۔

کمپنی کے مطابق فون کھلی حالت میں صرف 5.2 ملی میٹر موٹا ہے۔ اس میں مضبوط ٹائٹینیم فریم اور خصوصی ہِنج استعمال کیا گیا ہے، جسے بار بار کھولنے اور بند کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

نئے فون میں ایپل کی A20 Pro چپ نصب ہے، جبکہ فولڈ ایبل ڈیزائن کے مطابق سافٹ ویئر میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ بڑی اسکرین پر بیک وقت مختلف ایپس استعمال کرنا آسان ہو۔ فون میں چہرے سے شناخت کرنے والے فیس آئی ڈی کے بجائے فنگر پرنٹ سے کام کرنے والی ٹچ آئی ڈی ٹیکنالوجی دی گئی ہے۔

آئی فون ڈوؤ دو رنگوں، اسٹار وائٹ اور نائٹ اسکائی، میں دستیاب ہوگا۔ صارفین 256 جی بی، 512 جی بی، ایک ٹی بی اور دو ٹی بی اسٹوریج میں سے اپنی ضرورت کے مطابق ماڈل منتخب کرسکیں گے۔

امریکا میں اس فون کی ابتدائی قیمت 1999 ڈالر رکھی گئی ہے، جبکہ برطانیہ میں قیمت 1999 پاؤنڈ سے شروع ہوتی ہے۔ زیادہ اسٹوریج والے ماڈلز کی قیمت اس سے زیادہ ہے۔

ایپل نے نئے فون کے آرڈرز آسان بنانے کے لیے صارفین کو پیشگی تیاری کی سہولت بھی فراہم کی تھی۔ اس کے تحت خریدار بکنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فون کا رنگ، اسٹوریج، ادائیگی کا طریقہ اور دیگر تفصیلات محفوظ کرسکتے تھے تاکہ آرڈر کھلتے ہی خریداری مکمل کی جاسکے۔

اس سہولت کے باوجود بعض خریداروں کو آرڈر مکمل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ صارفین کی شکایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی فروخت کے دوران زیادہ مانگ کے ساتھ محدود دستیابی نے بھی صورتحال کو متاثر کیا۔

آئی فون ڈوؤ کی باقاعدہ فروخت 23 اکتوبر سے شروع ہوگی، جب پہلے مرحلے کے خریداروں کو فون ملنا شروع ہوگا اور منتخب ایپل اسٹورز میں بھی یہ دستیاب ہوگا۔ کمپنی نے 70 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں ابتدائی دستیابی کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ مزید مارکیٹوں میں 30 اکتوبر سے فروخت شروع ہوگی۔

نئے فون کی مانگ کے ساتھ اس کی پیداوار بھی اہم معاملہ بن گئی ہے۔ ایپل سمیت الیکٹرانکس بنانے والی مختلف کمپنیوں کو بعض پرزوں، خصوصاً میموری چپس، کی دستیابی سے متعلق مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے آئی فون ڈوؤ کی ڈیلیوری میں تاخیر صرف زیادہ مانگ کے بجائے محدود سپلائی سے بھی منسلک ہوسکتی ہے۔

آئی فون ڈوؤ کی ابتدائی فروخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگی قیمت کے باوجود فولڈ ایبل آئی فون میں صارفین کی دلچسپی خاصی زیادہ ہے۔ تاہم اس کی مجموعی تجارتی کامیابی کا اندازہ آنے والے مہینوں میں فروخت، پیداوار اور صارفین کے تجربات سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔

خبر شیئر کریں: