جرمنی میں روبوٹ کے ذریعے ہراسانی کا الزام، دو نوجوان زیرِتفتیش

کولون میں 16 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور واقعہ براہِ راست نشر کرنے کی تحقیقات؛ پولیس نے روبوٹ اور فون ضبط کرلیے۔

جرمنی میں روبوٹ کے ذریعے ہراسانی کا الزام، دو نوجوان زیرِتفتیش

کولون: جرمن پولیس نے کولون میں ایک نوعمر لڑکی کو روبوٹ کے ذریعے مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس کے مطابق زیرِتفتیش افراد کی عمریں 16 اور 19 سال ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کی۔

پولیس کے مطابق تقریباً ایک اعشاریہ دو میٹر لمبا روبوٹ ہفتے کے روز 16 سالہ لڑکی کے قریب آیا اور مبینہ طور پر نامناسب جسمانی حرکت کی۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے روبوٹ ایک گاڑی سے برآمد کیا اور ملزمان کے دو موبائل فون بھی قبضے میں لے لیے۔

اس کیس میں ابھی تحقیقات جاری ہیں اور الزامات عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔ واقعہ اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ روبوٹکس اور ریموٹ کنٹرول آلات کے غلط استعمال سے ہراسانی اور رازداری کے نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے استعمال میں انسانی ذمہ داری اور قانونی جواب دہی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

خبر شیئر کریں: