جس ملک میں زیتون کا ایک بھی درخت نہیں، وہی عالمی چیمپئن بن گیا

کروشیا میں ہونے والے دلچسپ مقابلے میں 10 ممالک کی ٹیمیں شریک ہوئیں، فاتح ٹیم نے صرف 45 منٹ میں 55 کلوگرام سے زیادہ زیتون جمع کرلیے۔

جس ملک میں زیتون کا ایک بھی درخت نہیں، وہی عالمی چیمپئن بن گیاAI Generated

کروشیا میں زیتون توڑنے کی عالمی چیمپئن شپ کا نتیجہ سب کے لیے حیران کن ثابت ہوا، جہاں ایک ایسے ملک کی ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی جس کی سرزمین پر زیتون کا ایک بھی درخت موجود نہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ دلچسپ مقابلہ کروشیا کے خوبصورت جزیرے براچ پر منعقد ہوا، جہاں دنیا کے 10 ممالک سے تعلق رکھنے والی ٹیموں نے زیتون توڑنے کی اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

مقابلے کے قواعد کے مطابق ہر ٹیم میں چار افراد شامل تھے، جن میں دو مرد اور دو خواتین تھیں۔ تمام ٹیموں کو صرف 45 منٹ کا وقت دیا گیا تھا اور اس دوران زیادہ سے زیادہ زیتون جمع کرنے والی ٹیم کو فاتح قرار دیا جانا تھا۔

مقابلے کی خاص بات یہ تھی کہ شرکا کو زیتون ہاتھوں سے توڑنے تھے۔ اس دوران کھلاڑیوں نے زیتون جمع کرنے کے لیے روایتی بوری نما تہبند پہن رکھے تھے، جنہیں مقامی زبان میں ’ساکیتے‘ کہا جاتا ہے۔

شرکا درختوں سے زیتون توڑ کر اپنے تہبندوں میں جمع کرتے اور پھر انہیں ٹیم کے لیے مخصوص کریٹ میں منتقل کرتے رہے۔ مقررہ وقت ختم ہونے پر جمع کیے گئے زیتون کا وزن کیا گیا تاکہ فاتح ٹیم کا فیصلہ ہوسکے۔

نتائج سامنے آئے تو فن لینڈ کی ٹیم نے سب کو حیران کردیا۔ اس ٹیم نے صرف 45 منٹ کے دوران تقریباً 55.4 کلوگرام زیتون جمع کرکے عالمی چیمپئن شپ اپنے نام کرلی۔

اس کامیابی کو غیر معمولی اس لیے بھی قرار دیا جارہا ہے کہ فن لینڈ میں زیتون کے درخت نہیں پائے جاتے، جبکہ زیتون کی کاشت عموماً گرم اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں میں کی جاتی ہے۔

فاتح ٹیم کے کپتان پیٹری اُتریاینن نے کامیابی کے بعد خوشی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال ان کی ٹیم چوتھے نمبر پر رہی تھی، اس لیے اس مرتبہ ان کا مقصد اپنی پوزیشن بہتر بنانا تھا۔

ان کے مطابق ٹیم نے بہتر کارکردگی دکھانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن عالمی چیمپئن بننے کی توقع کسی کو نہیں تھی۔

فن لینڈ کے کپتان نے اس کامیابی کو خواب جیسا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعی حیرت انگیز بات ہے کہ ایک ایسے ملک کی ٹیم زیتون توڑنے کی عالمی چیمپئن بن گئی جہاں زیتون کا ایک بھی درخت نہیں۔

زیتون توڑنے کی یہ سالانہ چیمپئن شپ ایک منفرد مقابلہ ہے جس میں شرکا کی رفتار، مہارت اور ٹیم ورک کو عملی طور پر آزمایا جاتا ہے۔ اس سال فن لینڈ کی کامیابی نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنادیا۔

اس غیر متوقع نتیجے نے ثابت کیا کہ کسی مخصوص فصل کی کاشت کا تجربہ نہ رکھنے والے ملک کی ٹیم بھی اچھی تیاری اور مشترکہ کوشش سے اس سے متعلق مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔

خبر شیئر کریں: