صدیوں پرانے رومی تابوت میں کس کا ڈھانچہ ملا؟ نئی تحقیق میں دلچسپ پیش رفت
برطانیہ میں ملنے والے تقریباً ہزار سال پرانے انسانی ڈھانچے کی شناخت کے لیے تحقیق دو ممکنہ ناموں تک پہنچ گئی۔
لندن: برطانیہ کے تاریخی ویسٹ منسٹر ایبی میں دریافت ہونے والے انسانی ڈھانچے کی شناخت کے بارے میں نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ باقیات تقریباً ایک ہزار سال پہلے گزرنے والے دو مذہبی سربراہوں میں سے کسی ایک کی ہوسکتی ہیں۔
اس معاملے نے ماہرین کو اس لیے الجھا رکھا تھا کہ پتھر کے تابوت پر جس شخص کا نام لکھا ہے، اندر موجود ڈھانچہ اس کے زمانے کا نہیں۔
یہ تابوت 1869 میں دریافت ہوا تھا۔ اس پر ویلیریئس امانڈینس کا نام درج ہے، جو تقریباً 300 سے 400 عیسوی کے درمیان لندن میں رہنے والا ایک دولت مند شخص تھا۔ تاہم تابوت کے ڈھکن پر بنی صلیب دسویں یا گیارہویں صدی کی ہے۔
ہڈیوں کی عمر معلوم کرنے کے لیے کیے گئے کاربن ٹیسٹ نے بھی یہی فرق واضح کیا۔ نتائج کے مطابق اندر موجود شخص کی موت 987 سے 1052 عیسوی کے درمیان ہوئی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ رومی دور کا تابوت صدیوں بعد دوبارہ تدفین کے لیے استعمال کیا گیا۔
ویسٹ منسٹر ایبی کے ماہر آثار قدیمہ پروفیسر وارک روڈویل کے مطابق ڈھانچہ ممکنہ طور پر ایلف وگ کا ہے، جو وہاں کی خانقاہ کے سربراہ تھے اور تقریباً 1020 عیسوی میں وفات پاگئے تھے۔ دوسرا امکان ان کے جانشین وولنوتھ کا ہے، جن کا انتقال 1049 میں ہوا۔
تحقیق میں مرد کی عمر موت کے وقت 35 سے 49 سال اور قد تقریباً پانچ فٹ نو انچ بتایا گیا ہے۔ تدفین کے طریقے سے بھی اس کے کسی اعلیٰ مذہبی عہدے پر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اگرچہ ایلف وگ کی شناخت کو زیادہ ممکن سمجھا جارہا ہے، لیکن ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا کہ ڈھانچہ ان دونوں میں سے کس کا ہے۔





