بھارت میں 16 سالہ لڑکے کی آنکھ کے اوپر دانت نکل آیا، ڈاکٹر بھی حیران

بائیں آنکھ کے اوپر سوجن کے بعد جلد سے سفید نوکیں نکلنے لگیں، سی ٹی اسکین میں غیر معمولی جگہ پر مکمل دانت کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔

بھارت میں 16 سالہ لڑکے کی آنکھ کے اوپر دانت نکل آیا، ڈاکٹر بھی حیران

بھارت میں ایک 16 سالہ لڑکے کے ساتھ پیش آنے والے غیر معمولی طبی واقعے نے ڈاکٹروں کو بھی حیران کردیا۔ لڑکے کی بائیں آنکھ کے اوپری حصے میں دانت بن گیا، جسے بعد میں آپریشن کے ذریعے نکال دیا گیا۔ طبی ماہرین کے مطابق آنکھ کے خانے کے اس حصے میں دانت نکلنے کا یہ پہلا معلوم واقعہ ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکے کی بائیں آنکھ کے اوپر تقریباً ایک ماہ سے سوجن موجود تھی، تاہم اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہورہا تھا۔ ابتدا میں یہ ایک عام سوجن دکھائی دیتی تھی، لیکن کچھ عرصے بعد بھنوؤں اور اوپری پلک کے درمیان جلد سے دو سخت سفید نوکیں باہر آنے لگیں۔

اس غیر معمولی صورتحال کے بعد لڑکے کو بھارتی شہر مدورائی کے اراوند آئی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔

ڈاکٹروں نے اصل مسئلہ معلوم کرنے کے لیے سی ٹی اسکین کرایا تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی۔ اسکین میں پتا چلا کہ آنکھ کے خانے کے بالائی حصے میں ایک مکمل دانت موجود ہے، جس کی جڑ اور اوپری حصہ بھی بن چکے تھے۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ عام دانتوں کی طرح ہی نشوونما پانے والا دانت تھا، لیکن اس کی جگہ انتہائی غیر معمولی تھی۔ دانت کا تعلق آنکھ کے خانے کی ہڈی سے تھا اور اس کا کچھ حصہ جلد سے باہر نکل آیا تھا۔

طبی زبان میں اس کیفیت کو ایکٹوپک ٹوتھ (Ectopic Tooth) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسا دانت ہے جو اپنی معمول کی جگہ، یعنی منہ اور جبڑے کے بجائے جسم کے کسی دوسرے حصے میں بن جائے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے دانت عموماً گال کی ہڈی کے پیچھے موجود خالی جگہ میں پائے جاتے ہیں۔ بعض نایاب واقعات میں ناک، تالو، ٹھوڑی اور جبڑے کے جوڑ میں بھی دانت بننے کی مثالیں سامنے آچکی ہیں، تاہم آنکھ کے خانے کے بالائی حصے میں مکمل دانت کی موجودگی انتہائی غیر معمولی ہے۔

ڈاکٹروں نے لڑکے کی سابقہ طبی تاریخ کا بھی جائزہ لیا، لیکن چہرے پر کسی چوٹ یا ایسی جینیاتی بیماری کا ثبوت نہیں ملا جو اس کیفیت کی واضح وجہ بن سکتی ہو۔ اسکین میں کھوپڑی کے کسی دوسرے حصے میں اضافی دانت بھی نظر نہیں آئے۔

طبی ٹیم نے آپریشن کے ذریعے دانت کو کامیابی سے نکال دیا۔ معائنے میں یہ بھی سامنے آیا کہ دانت کسی ایسے ٹیومر کا حصہ نہیں تھا جس میں دانت یا بال جیسے جسمانی ٹشوز بن سکتے ہیں۔ اس بنا پر ڈاکٹروں نے اسے غیر معمولی جگہ پر بننے والا دانت قرار دیا۔

آپریشن کے بعد لڑکے کی آنکھ کے اوپر موجود سوجن ختم ہوگئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق دانت نکالنے سے مستقبل میں ممکنہ پیچیدگیوں کا خطرہ بھی کم ہوگیا۔

اس کیس سے متعلق تحقیق میں شامل ڈاکٹر میگھنا تنور کے مطابق ان کے علم میں آنکھ کے خانے کے بالائی حصے میں دانت بننے کی اس سے پہلے کوئی مثال سامنے نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ٹیم نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیا۔

اس نایاب طبی کیس کی تفصیلات جون 2026 میں آنکھوں کے امراض سے متعلق طبی جریدے Ophthalmology میں شائع ہوئی تھیں، جبکہ اکتوبر میں اس واقعے کو بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں توجہ ملی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں غیر معمولی جگہ پر دانت بننے کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، تاہم اس لڑکے کے معاملے میں کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بظاہر معمولی دکھائی دینے والی سوجن کے پیچھے بھی کوئی غیر معمولی طبی مسئلہ ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر آنکھ کے قریب مسلسل سوجن یا جلد سے کسی سخت چیز کے نکلنے کی صورت میں ماہر ڈاکٹر سے فوری معائنہ کرانا ضروری ہے۔

خبر شیئر کریں: