امریکا میں پرانا سامان خریدنے والے شخص کو ڈبوں سے ایسی چیز ملی کہ پولیس بلانا پڑگئی
ریاست ٹیکساس میں خریدے گئے گھریلو سامان سے دوسری جنگ عظیم کے فعال دستی بم برآمد، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے تقریباً 80 سال پرانے دھماکا خیز مواد کو محفوظ تحویل میں لے لیا
واشنگٹن: امریکا کی ریاست ٹیکساس میں پرانے گھریلو سامان کی خریداری ایک شہری کے لیے غیر متوقع اور خطرناک صورتحال میں تبدیل ہوگئی، جب خریدے گئے ڈبوں کی جانچ پڑتال کے دوران اسے دوسری جنگ عظیم کے زمانے کے دستی بم ملے۔ شہری نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرنا پڑا۔
آسٹن پولیس ایسوسی ایشن کے مطابق شہری نے پرانے گھریلو سامان کی فروخت کے دوران چند ڈبے خریدے تھے۔ جب اس نے گھر میں ان ڈبوں کو کھول کر ان میں موجود اشیا کا جائزہ لینا شروع کیا تو اسے ایسی چیزیں دکھائی دیں جو بظاہر دوسری جنگ عظیم کے دور کے دستی بم تھے۔
شہری نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے خود دستی بموں سے مزید چھیڑ چھاڑ کرنے کے بجائے پولیس سے رابطہ کیا۔ پولیس کو واقعے کی اطلاع پیر کے روز ملی، جس کے بعد متعلقہ اہلکاروں نے معاملے کی جانچ شروع کی۔
اطلاع ملنے پر آسٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کا بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچا اور برآمد ہونے والے دستی بموں کا معائنہ کیا۔ ماہرین نے تصدیق کی کہ یہ محض نمائشی یا ناکارہ بم نہیں تھے بلکہ فعال دھماکا خیز مواد رکھتے تھے۔
پولیس کے مطابق تقریباً 80 سال پرانے دستی بموں کی موجودہ حالت اور ان کے اندر موجود دھماکا خیز مواد کے استحکام کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں تھا۔ ایسی صورتحال میں انہیں حرکت دینا یا غیر محتاط انداز میں سنبھالنا خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ضروری حفاظتی اقدامات کے بعد تمام دستی بموں کو اپنی تحویل میں لے لیا اور انہیں جائے وقوعہ سے بحفاظت منتقل کردیا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ دھماکا خیز مواد کو وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ شہری نے عام استعمال کی پرانی گھریلو اشیا خریدی تھیں، لیکن ان کے درمیان دہائیوں پرانا فعال جنگی سازوسامان موجود تھا۔
دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈبوں میں کتنے دستی بم موجود تھے، وہ فروخت کے سامان میں کیسے پہنچے یا ان کے سابق مالک کو ان کی موجودگی کا علم تھا یا نہیں۔
آسٹن پولیس ایسوسی ایشن نے واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر بھی جاری کیں۔ پولیس کی جانب سے دستی بموں کو محفوظ طریقے سے ہٹائے جانے کے بعد کسی دھماکے یا جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔





