اسکیٹ بورڈ پر 151 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار، نوجوان نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا

اسپین کے 27 سالہ ڈیاگو پونسیلے نے کینیڈا کی پہاڑی سڑک پر بغیر بریک کے غیر معمولی رفتار حاصل کی، 9 سال پرانا ریکارڈ توڑ کر گنیز بک میں نام درج کرالیا۔

اسکیٹ بورڈ پر 151 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار، نوجوان نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا

کینیڈا میں ایک نوجوان نے اسکیٹ بورڈ پر 151.83 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ اسپین سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ڈیاگو پونسیلے نے پہاڑی سڑک پر کھڑے ہوکر اسکیٹ بورڈ چلانے کا 9 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔

گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق ڈیاگو نے یہ کارنامہ 22 ستمبر 2026 کو کینیڈا کے صوبے کیوبیک کے علاقے لیس ایبولمینٹس میں انجام دیا۔ اس مقصد کے لیے ایک پہاڑی سڑک کو عام ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا، جہاں رفتار کی پیمائش اور حفاظتی انتظامات کے لیے خصوصی ٹیم موجود تھی۔

ڈیاگو نے اسکیٹ بورڈ پر 94.34 میل فی گھنٹہ، یعنی 151.83 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ برطانیہ کے پیٹر کونولی کے پاس تھا، جنہوں نے 2017 میں اسی سڑک پر 146.73 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیاگو اپنی پہلی آزمائشی کوشش میں ہی پرانا عالمی ریکارڈ توڑ چکے تھے۔ اس دوران انہوں نے تقریباً 146.88 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی، لیکن وہ اس کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کا اصل ہدف 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد عبور کرنا تھا۔

بہتر موسم اور ہوا کی مناسب سمت کے انتظار میں انہوں نے مزید پانچ دن گزارے۔ آخرکار 22 ستمبر کو دوبارہ کوشش کی اور وہ رفتار حاصل کرلی جس کا وہ کئی سال سے خواب دیکھ رہے تھے۔

ریکارڈ قائم کرنے کے دن ڈیاگو نے مجموعی طور پر سات مرتبہ پہاڑی سڑک پر اسکیٹ بورڈ چلایا۔ صبح کی کوششوں میں وہ پہلے ہی سابقہ عالمی ریکارڈ سے آگے نکل گئے تھے، تاہم دوپہر کے بعد سازگار موسمی حالات میں انہوں نے اپنی سب سے تیز رفتار حاصل کی۔

ڈیاگو دو مرتبہ ڈاؤن ہل اسکیٹ بورڈنگ کے عالمی چیمپئن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اس ریکارڈ کے لیے تقریباً چار سال تک تیاری کی، جس میں مناسب سڑک کی تلاش، جسمانی تربیت اور تیز رفتاری کے دوران توازن برقرار رکھنے کی مشق شامل تھی۔

غیر معمولی رفتار حاصل کرنے کے لیے ان کا اسکیٹ بورڈ بھی عام بورڈ سے مختلف تھا۔ اس میں ہوا کی مزاحمت کم کرنے کے لیے کاربن فائبر کے خصوصی حصے لگائے گئے تھے، جبکہ لباس، جوتوں اور ہیلمٹ کو بھی تیز رفتار سفر کے مطابق تیار کیا گیا تھا۔

ڈیاگو نے خصوصی ونڈ ٹنل میں بھی تربیت حاصل کی تاکہ یہ جان سکیں کہ جسم کو کس زاویے پر رکھنے سے ہوا کی مزاحمت کم ہوگی۔ اس دوران انہوں نے گردن اور جسم کی لچک بڑھانے پر بھی کام کیا تاکہ انتہائی جھکی ہوئی حالت میں اسکیٹ بورڈ کا توازن برقرار رکھ سکیں۔

اس ریکارڈ کی ایک حیران کن بات یہ بھی تھی کہ اسکیٹ بورڈ میں عام گاڑیوں کی طرح بریک موجود نہیں تھے۔ ڈیاگو کو رفتار کم کرنے اور توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنی مہارت اور مخصوص تکنیک پر انحصار کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ اتنی تیز رفتاری پر جسم کی معمولی حرکت بھی اسکیٹ بورڈ کے توازن کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے سڑک کے ہر موڑ اور نشیب و فراز کو پہلے سے ذہن نشین کیا تھا۔

ریکارڈ قائم کرنے کے موقع پر ڈیاگو کے والدین بھی کینیڈا پہنچے تھے۔ ان کی والدہ نے خوشگوار انداز میں کہا کہ انہوں نے بیٹے کو بچپن سے محفوظ رکھنے کی بہت کوشش کی، لیکن اب وہ خود اپنی مرضی سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر پہاڑی سڑک سے نیچے اتر رہا ہے۔

جب ڈیاگو کو اپنی کامیابی کی تصدیق ملی تو وہ خوشی سے اپنے اہل خانہ اور ٹیم کے ارکان سے گلے ملے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی محض عالمی ریکارڈ توڑنے تک محدود نہیں بلکہ کئی سال کی محنت اور ایک دیرینہ خواب کی تکمیل ہے۔

گنیز ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے اینڈریو گلاس نے بھی اس کارنامے کو غیر معمولی قرار دیا۔ ان کے مطابق ڈیاگو اتنی تیزی سے مقررہ مقام سے گزرے کہ انہیں واضح طور پر دیکھنا بھی مشکل تھا۔

ڈیاگو پونسیلے کی یہ کامیابی اسکیٹ بورڈنگ کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ہے، تاہم اس نوعیت کی تیز رفتار کوششیں انتہائی خطرناک ہوتی ہیں اور انہیں صرف پیشہ ور کھلاڑی خصوصی حفاظتی انتظامات اور بند راستوں پر انجام دیتے ہیں۔

خبر شیئر کریں: