کیا 13 نومبر 2026 کو دنیا ختم ہوجائے گی؟ 66 سال پرانی سائنسی تحقیق دوبارہ زیرِ بحث
1960 میں شائع ہونے والے سائنسی مقالے میں آبادی کے بے تحاشا اضافے سے متعلق غیر معمولی پیش گوئی کی گئی تھی، تاہم ماہرین اسے دنیا کے خاتمے کی مصدقہ تاریخ قرار نہیں دیتے
دنیا کے خاتمے سے متعلق 66 سال پرانی ایک سائنسی تحقیق ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، جس میں 13 نومبر 2026 کو انسانی آبادی کے حوالے سے ایک غیر معمولی تاریخ قرار دیا گیا تھا۔ اس تحقیق کو بعض حلقوں میں دنیا کے خاتمے کی پیش گوئی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، تاہم اس کا اصل تعلق آبادی میں اضافے کے ایک ریاضیاتی ماڈل سے ہے۔
یہ تحقیق 1960 میں معروف سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی تھی، جسے آسٹریا میں پیدا ہونے والے امریکی طبیعیات دان ہائنز فان فورسٹر نے یونیورسٹی آف الینوائے کے دیگر محققین کے ساتھ مل کر تیار کیا تھا۔
محققین نے گزشتہ تقریباً دو ہزار برسوں کے دوران دنیا کی آبادی میں اضافے کے رجحانات کا جائزہ لیا اور ایک ریاضیاتی ماڈل پیش کیا۔ اس ماڈل کے مطابق اگر انسانی آبادی اسی غیر معمولی رفتار سے بڑھتی رہتی تو 13 نومبر 2026 کو آبادی ریاضیاتی اعتبار سے لامحدود ہونے کے قریب پہنچ جاتی۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا تھا کہ آبادی میں مسلسل تیز رفتار اضافہ انسانوں کے لیے وسائل، رہائش اور زندگی گزارنے کی جگہ کے حوالے سے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ محققین نے اس صورتحال کو بیان کرنے کے لیے آبادی کے دباؤ کے باعث انسانوں کے کچلے جانے کی تمثیل بھی استعمال کی تھی۔
تاہم اس پیش گوئی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ 13 نومبر کو زمین تباہ ہوجائے گی یا اس دن کوئی قدرتی آفت پوری انسانیت کا خاتمہ کردے گی۔ دراصل یہ ایک مشروط ریاضیاتی نتیجہ تھا، جو آبادی میں اضافے کی اس وقت کی رفتار برقرار رہنے کے مفروضے پر مبنی تھا۔
1960 میں تحقیق شائع ہونے کے بعد آبادی کے ماہرین کے درمیان اس کے نتائج پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ بعد کے برسوں میں دنیا کی آبادی میں اضافے کی رفتار تبدیل ہوئی اور کئی ممالک میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس سے پرانے ماڈل کی بنیادی شرائط برقرار نہ رہ سکیں۔
اگرچہ تحقیق میں استعمال ہونے والے ماڈل کے بعض تخمینے 1990 کی دہائی تک آبادی کے رجحانات سے قریب دکھائی دیتے رہے، لیکن موجودہ آبادیاتی صورتحال اس بات کی تائید نہیں کرتی کہ نومبر 2026 میں انسانی آبادی کسی لامحدود حد تک پہنچ جائے گی۔
دوسری جانب دنیا کو درپیش خطرات کے حوالے سے سائنس دانوں کی تشویش اب بھی برقرار ہے۔ بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کی جانب سے مرتب کردہ علامتی ڈومز ڈے کلاک کو 2026 میں آدھی رات سے صرف 85 سیکنڈ کے فاصلے پر رکھا گیا ہے، جو اس کی تاریخ میں سب سے کم فاصلہ ہے۔
ڈومز ڈے کلاک میں آدھی رات کو عالمی تباہی کے خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس گھڑی کے ذریعے جوہری تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور دیگر عالمی خطرات کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔ یہ کسی حقیقی تباہی کی تاریخ یا وقت کی پیش گوئی نہیں کرتی۔
یوں 13 نومبر 2026 سے متعلق دوبارہ گردش کرنے والی خبر کا تعلق ایک تاریخی سائنسی ماڈل سے ہے، نہ کہ دنیا کے خاتمے کے کسی ثابت شدہ امکان سے۔ ماہرین کے نزدیک اس قسم کی پیش گوئیوں کو ان کے سائنسی پس منظر اور مفروضوں کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔





