آواران کی اقصیٰ میروانی نے اٹلی میں عالمی اعزاز حاصل کرکے بلوچستان کا نام روشن کردیا

اقوام متحدہ نے اقصیٰ میروانی کو دنیا کی 100 نمایاں خواتین میں شامل کرلیا، روم میں منعقدہ تقریب میں زرعی ترقی اور دیہی خواتین کے لیے خدمات کا اعتراف کیا گیا۔

آواران کی اقصیٰ میروانی نے اٹلی میں عالمی اعزاز حاصل کرکے بلوچستان کا نام روشن کردیا

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع آواران سے تعلق رکھنے والی اقصیٰ میروانی نے اٹلی میں عالمی اعزاز حاصل کرکے پاکستان کا نام روشن کردیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے انہیں زرعی ترقی، دیہی علاقوں میں خواتین کی شمولیت اور سماجی خدمات کے اعتراف میں 100 ویمن ہیروز ایوارڈ 2026 سے نوازا ہے۔

آواران کی تحصیل جھاؤ سے تعلق رکھنے والی اقصیٰ میروانی کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جو زراعت، سماجی کاروبار اور مقامی آبادی کی ترقی کے لیے کام کررہی ہیں۔ انہیں یہ اعزاز 15 اکتوبر کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران دیا گیا، جہاں ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل شو ڈونگیو نے منتخب خواتین کی خدمات کو سراہا۔

اقصیٰ میروانی اس عالمی اعزاز کے لیے منتخب ہونے والی واحد پاکستانی خاتون ہیں۔ ان کی کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے سے تعلق رکھتی ہیں، جہاں خواتین کو تعلیم، معاشی مواقع اور ترقیاتی سہولیات تک رسائی میں مختلف مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

اقوام متحدہ نے 2026 کو خواتین کسانوں کا عالمی سال قرار دیا ہے۔ اسی مناسبت سے ایف اے او نے دنیا بھر میں زرعی پیداوار، خوراک کے نظام، قدرتی وسائل کے تحفظ اور دیہی آبادی کی بہتری کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والی 100 خواتین کو عالمی سطح پر خراجِ تحسین پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس اعزاز کے لیے 131 رکن ممالک سے مجموعی طور پر 609 نامزدگیاں موصول ہوئیں۔ ایف اے او کے مطابق امیدواروں کی خدمات، ان کے کام کے اثرات اور مختلف خطوں کی نمائندگی کو سامنے رکھتے ہوئے کئی مراحل میں جانچ پڑتال کی گئی، جس کے بعد 100 خواتین کا انتخاب کیا گیا۔

روم میں ہونے والی تقریب عالمی یومِ دیہی خواتین کے موقع پر منعقد کی گئی۔ اس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی کسان خواتین، کاروباری شخصیات، محققین، سماجی کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کی خدمات کو تسلیم کیا گیا، جو اپنے علاقوں میں خوراک کی فراہمی بہتر بنانے اور خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں کردار ادا کررہی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل شو ڈونگیو نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین زراعت اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ انہوں نے خواتین کی محنت، مقامی تجربات اور نئی نسلوں تک زرعی معلومات منتقل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

اقصیٰ میروانی نے عالمی تقریب میں بلوچستان کا روایتی بلوچی لباس زیب تن کیا اور اپنے علاقے کی ثقافت کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اپنی کامیابی والدین، ضلع آواران، بلوچستان اور پاکستان کے نام کی۔

اقصیٰ میروانی کا کہنا تھا کہ ان کے والدین کی دعاؤں، رہنمائی اور تعاون نے انہیں اس مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ اعزاز صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ بلوچستان کی ان خواتین کی محنت اور جدوجہد کا بھی اعتراف ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنے علاقوں میں مثبت تبدیلی کے لیے کام کررہی ہیں۔

اقصیٰ میروانی اس سے پہلے بھی خواتین کی تعلیم اور سماجی ترقی کے معاملات پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ انہوں نے 2024 میں دیہی خواتین کی قیادت سے متعلق ایک قومی کانفرنس میں آواران کی نمائندگی کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم میں حائل مشکلات اور کم عمری کی شادیوں جیسے مسائل کو اجاگر کیا تھا۔

ان کی خدمات میں مقامی خواتین اور لڑکیوں کے لیے بہتر مواقع کی حمایت اور دیہی علاقوں کے مسائل کو متعلقہ فورمز تک پہنچانا شامل ہے۔ عالمی اعزاز کے لیے ان کا انتخاب بلوچستان کی خواتین کی صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر سامنے لانے کا ایک اہم موقع بن گیا ہے۔

کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا نے اقصیٰ میروانی کی کامیابی کو بلوچستان کی نوجوان خواتین کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا۔ ان کے مطابق اس اعزاز سے ظاہر ہوتا ہے کہ محنت، صلاحیت اور مستقل جدوجہد کے ذریعے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا سکتی ہیں۔

ایف اے او کا 100 ویمن ہیروز پروگرام ان خواتین کی خدمات کو سامنے لانے کے لیے شروع کیا گیا ہے جو خوراک کی پیداوار بڑھانے، دیہی معیشت کو بہتر بنانے، قدرتی وسائل محفوظ رکھنے اور مقامی آبادیوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں کردار ادا کررہی ہیں۔

بلوچستان کی اقصیٰ میروانی کا اس فہرست میں شامل ہونا صوبے کے لیے ایک نمایاں کامیابی ہے۔ ان کا عالمی اعزاز اس بات کی مثال ہے کہ مناسب مواقع اور حوصلہ افزائی ملنے پر دیہی علاقوں کی خواتین بھی زراعت، تعلیم اور سماجی ترقی کے شعبوں میں بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرا سکتی ہیں۔

خبر شیئر کریں: