برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر پر حملے کی وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں پاکستانی سفارت کار نہیں بلکہ فرانسیسی سیاست دان رافیل گلوکسمان دکھائی دے رہے ہیں، واقعہ پیرس میں پیش آیا تھا۔

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر پر حملے کی وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی

برطانیہ میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر پر مبینہ حملے کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کا دعویٰ غلط ثابت ہوگیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص پاکستانی سفارت کار نہیں بلکہ فرانس کے سیاست دان رافیل گلوکسمان ہیں، جن پر پیرس میں ایک شخص نے آٹا پھینکا تھا۔

سوشل میڈیا پر 14 اکتوبر کو آٹھ سیکنڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان کو صحافیوں کے سوالات کا سامنا تھا کہ اچانک ایک شخص نے ان پر سفید رنگ کا پاؤڈر پھینک دیا۔

وائرل فوٹیج میں ایک شخص کو گاڑی کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، اسی دوران دوسرا شخص اس کے سر پر سفید سفوف پھینک دیتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ پاکستانی سفارت کار کی مبینہ بے عزتی کا تاثر دیا گیا۔

یہ دعویٰ صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ ایکس، فیس بک اور انسٹاگرام سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر بھی گردش کرنے لگا۔ بعض صارفین نے اسے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال سے جوڑ کر پیش کیا۔

وائرل پوسٹ کو خاصی توجہ ملی۔ حقائق کی جانچ کے وقت تک اسے ایک لاکھ 32 ہزار 500 مرتبہ دیکھا جاچکا تھا، جبکہ اس پر 798 لائکس اور 280 ری پوسٹس موجود تھیں۔

تاہم ویڈیو کے اصل پس منظر کی جانچ پڑتال سے سامنے آیا کہ اس میں دکھائی دینے والے شخص کی شناخت غلط بیان کی گئی تھی۔ فوٹیج میں موجود شخص فرانسیسی سیاست دان رافیل گلوکسمان ہیں، نہ کہ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان۔

ویڈیو کی اصل تاریخ اور مقام معلوم کرنے کے لیے اس کے مناظر کی ریورس امیج سرچ کی گئی۔ اس عمل کے دوران فوٹیج کا تعلق 11 اکتوبر 2026 کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پیش آنے والے ایک واقعے سے سامنے آیا۔

فرانس اور یورپ کے ذرائع ابلاغ میں بھی اس واقعے کی تفصیلات شائع ہوئیں، جن میں واضح طور پر رافیل گلوکسمان کی شناخت کی گئی۔ ان رپورٹس کے مطابق سیاست دان پر سفید سفوف کے طور پر آٹا پھینکا گیا تھا۔

مزید یہ کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والے شخص کی ظاہری شکل بھی پاکستانی ہائی کمشنر ٹیپو عثمان سے مطابقت نہیں رکھتی۔ دونوں شخصیات کی تصاویر کا تقابل کرنے سے شناخت میں فرق واضح ہوتا ہے۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے بھی 15 اکتوبر کو وائرل ویڈیو کے ساتھ منسوب دعوے کی تردید کی۔ وزارت کے فیکٹ چیک بیان کے مطابق پاکستانی سفارت کار پر حملے کے عنوان سے پھیلائی جانے والی فوٹیج گمراہ کن ہے اور اسے غلط پس منظر کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔

اس وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ ویڈیو کا پاکستان کے سفارتی مشن یا برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل واقعہ فرانس میں پیش آیا تھا، جہاں ایک مقامی سیاست دان کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ معاملہ اس بات کی مثال ہے کہ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعے کی مختصر ویڈیو کو غلط شناخت اور نئے عنوان کے ساتھ شیئر کرکے عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا کیا جاسکتا ہے۔ خصوصاً ایسی ویڈیوز جن میں واقعے کا مقام، تاریخ اور متعلقہ شخص واضح نہ ہو، انہیں مختلف دعوؤں کے ساتھ پھیلانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

خبر شیئر کریں: