پشاور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی

عمران خان کے حامیوں کے احتجاج سے منسوب مناظر پاکستان کے نہیں، ستمبر 2025 میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہونے والے مظاہروں کے نکلے۔

پشاور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی

پشاور: سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کی جانب سے گورنر ہاؤس پشاور کے مبینہ گھیراؤ کی ویڈیو کے بارے میں کیا جانے والا دعویٰ غلط ثابت ہوگیا۔ فیکٹ چیک کے مطابق ویڈیو کا تعلق پاکستان کے حالیہ سیاسی حالات سے نہیں بلکہ ستمبر 2025 میں نیپال میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے ہے۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور فیس بک پر ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی، جس کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کے حامیوں نے پشاور کے گورنر ہاؤس کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

وائرل مناظر میں ایک بڑی عمارت کے باہر لوگوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے، جبکہ عمارت سے دھواں بھی اٹھ رہا ہے۔ ان مناظر کو پشاور کی تازہ صورتحال کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے سوشل میڈیا صارفین میں واقعے کے بارے میں بحث شروع ہوگئی۔

جیو فیکٹ چیک کے مطابق اس دعوے کے ساتھ شیئر کی جانے والی ایک پوسٹ کو رپورٹ کی تیاری تک تقریباً 48 ہزار 900 مرتبہ دیکھا جاچکا تھا۔ پوسٹ پر سیکڑوں لائکس اور ری پوسٹس بھی موجود تھیں، جبکہ اسی نوعیت کے دعوے دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی کیے گئے۔

تاہم ویڈیو کی حقیقت جانچنے کے لیے کی گئی ریورس امیج سرچ اور متعلقہ مواد کی تلاش سے معلوم ہوا کہ یہ مناظر اکتوبر 2026 کے نہیں ہیں۔ یہی ویڈیو 9 ستمبر 2025 کو جیو نیوز انگلش کے یوٹیوب شارٹس پر شائع ہوچکی تھی۔

اصل ویڈیو میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں بیرندرا انٹرنیشنل کنونشن سینٹر کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرے دکھائے گئے تھے۔ اس طرح واضح ہوا کہ ویڈیو کو اس کے اصل مقام اور وقت سے ہٹ کر پاکستان کی حالیہ سیاسی صورتحال سے جوڑا گیا۔

فیکٹ چیک کے دوران خیبرپختونخوا کے گورنر ہاؤس کے ایک ترجمان سے بھی رابطہ کیا گیا۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں نظر آنے والی عمارت پشاور کا گورنر ہاؤس نہیں ہے۔

اس کے علاوہ گورنر کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود گورنر ہاؤس پشاور کی تصاویر کا وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والی عمارت سے موازنہ کیا گیا تو دونوں عمارتوں کی ساخت مختلف پائی گئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی 14 اکتوبر 2026 کو اس ویڈیو کے بارے میں فیکٹ چیک شائع کیا تھا، جس میں واضح کیا گیا کہ مناظر ستمبر 2025 میں نیپال میں ہونے والے احتجاج سے متعلق ہیں۔

دیگر آزاد فیکٹ چیک اداروں نے بھی خیبرپختونخوا کی حالیہ صورتحال سے منسوب بعض دوسری ویڈیوز کی جانچ کی ہے۔ ان میں سے کچھ مناظر دوسرے ممالک یا پرانے واقعات کے نکلے، تاہم ان ویڈیوز کو گورنر ہاؤس کے مبینہ گھیراؤ والی ویڈیو سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ پشاور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کے دعوے کے ساتھ شیئر کی جانے والی مخصوص ویڈیو گمراہ کن ہے۔ اس سے پشاور میں کسی حقیقی احتجاج کے ہونے یا نہ ہونے کا عمومی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، البتہ زیرِ بحث مناظر پاکستان کے نہیں ہیں۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ پرانی ویڈیوز کو نئے سیاسی واقعات سے منسوب کرکے کس طرح غلط تاثر پیدا کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی وائرل ویڈیو کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کے اصل مقام، تاریخ اور معتبر ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔

خبر شیئر کریں: