مکہ دفاعی اتحاد کے خلاف احتجاج کی وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر ہزاروں مرتبہ دیکھی جانے والی ویڈیو دراصل سندھ کے شہر عمرکوٹ میں تحریک انصاف کے اجتماع کی نکلی، پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی تصدیق کردی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کے خلاف مبینہ احتجاج کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو دفاعی معاہدے کے خلاف کسی احتجاج کی نہیں بلکہ سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک سیاسی اجتماع کی ہے۔
سوشل میڈیا پر 8 اکتوبر کو ایک اکاؤنٹ سے 12 سیکنڈ کی ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں ایک سڑک پر لوگوں کا بڑا ہجوم دکھائی دے رہا تھا۔ شرکا کے ہاتھوں میں پاکستان تحریک انصاف کے پرچم موجود تھے۔
ویڈیو کے ساتھ یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ مکہ دفاعی معاہدے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کررہے ہیں۔
مکہ دفاعی اتحاد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان اگست 2026 میں طے پانے والا دفاعی انتظام ہے۔ تاہم وائرل ویڈیو کے ساتھ اس معاہدے کو جوڑنے کے لیے پیش کیا گیا دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا۔
دعویٰ سامنے آنے کے بعد ویڈیو کی اصل جگہ اور تاریخ معلوم کرنے کے لیے اس کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے دوران فوٹیج کا سراغ پاکستان تحریک انصاف کے سرکاری یوٹیوب چینل پر موجود ایک ویڈیو سے ملا، جس میں اجتماع کا مقام عمرکوٹ بتایا گیا تھا۔
مزید جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو 5 ستمبر 2026 کی رات ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس وقت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سندھ کے دورے پر تھے اور تحریک انصاف اپنی مجوزہ لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں عوامی رابطہ مہم چلا رہی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ٹیلی فون پر تصدیق کی کہ ویڈیو عمرکوٹ میں ہونے والے پارٹی اجتماع کی ہے۔ ان کے مطابق یہ اجتماع سندھ میں تحریک انصاف کی چار روزہ عوامی رابطہ مہم کا حصہ تھا۔
حلیم عادل شیخ نے واضح کیا کہ اس سیاسی سرگرمی کا مکہ دفاعی اتحاد یا پاکستان کی کسی دفاعی معاہدے میں شمولیت کے خلاف احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے 14 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی ایک بیان جاری کرکے وائرل ویڈیو کے ساتھ منسوب دعوے کی تردید کی۔
ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے عمرکوٹ میں پولیس سے بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ ایک پولیس اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ متعلقہ اجتماع پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمی تھی۔
اس کے علاوہ اجتماع کے وقت موقع پر موجود ایک مقامی صحافی محبوب عالم نے بھی تصدیق کی کہ ویڈیو عمرکوٹ میں تحریک انصاف کے پروگرام کے دوران بنائی گئی تھی۔
غلط دعوے کے ساتھ شیئر کی جانے والی ویڈیو کو خاصی توجہ ملی۔ جانچ پڑتال کے وقت تک اس پوسٹ کو 32 ہزار 500 سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا تھا، جبکہ اس پر تقریباً 2 ہزار 300 لائکس اور 774 ری پوسٹس موجود تھیں۔
یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ کسی ویڈیو کو اس کے اصل پس منظر سے الگ کرکے پیش کرنے سے غلط معلومات کتنی تیزی سے پھیل سکتی ہیں، خصوصاً جب اسے کسی اہم سیاسی یا بین الاقوامی معاملے سے جوڑ دیا جائے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعاون حالیہ ہفتوں میں علاقائی سلامتی کے حوالے سے زیر بحث رہا ہے۔ دفتر خارجہ بھی اس اتحاد کو دفاعی نوعیت کا انتظام قرار دے چکا ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
تاہم اس دفاعی معاہدے کے حوالے سے ہونے والی عمومی بحث کو عمرکوٹ کی مذکورہ ویڈیو سے منسلک کرنا درست نہیں۔ دستیاب شواہد، سیاسی رہنما کی تصدیق، پولیس اہلکار کے بیان اور موقع پر موجود صحافی کی معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ ویڈیو ایک الگ سیاسی اجتماع کی ہے۔
**فیکٹ چیک کا نتیجہ:** مکہ دفاعی اتحاد کے خلاف پاکستان میں احتجاج کے طور پر پیش کی جانے والی ویڈیو گمراہ کن دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی۔ اصل فوٹیج 5 ستمبر 2026 کو عمرکوٹ میں تحریک انصاف کے اجتماع کی ہے، جس کا دفاعی معاہدے کے خلاف احتجاج سے کوئی تعلق نہیں۔
تصدیق: 15 اکتوبر 2026 کی فیکٹ چیک رپورٹ، پی ٹی آئی کی اصل ویڈیو اور متعلقہ تصدیقی بیانات۔ دفاعی معاہدے کا پس منظر دفتر خارجہ کے سرکاری مؤقف سے لیا گیا ہے۔


