مارلن منرو کی اے آئی تصویر پر تبصرہ، تنقید کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف کا جواب
ہالی ووڈ اداکارہ کی اے آئی تصویر پر تبصرے سے شروع ہونے والی بحث پر وزیر دفاع کی وضاحت، سوشل میڈیا اکاؤنٹ خود چلانے کی تصدیق۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ مارلن منرو کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر پر تبصرہ کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری عہدے پر فائز ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی ذاتی زندگی یا شناخت سے دستبردار ہوجائے۔
جمعہ کو ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کے دوران وزیر دفاع سے ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور حالیہ متنازع پوسٹ کے بارے میں سوال کیا گیا۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنا اکاؤنٹ خود چلاتے ہیں اور اس مقصد کے لیے کسی دوسرے شخص پر انحصار نہیں کرتے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی وہ اپنا اکاؤنٹ خود استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے پُرزور انداز میں جواب دیا کہ وہ دو سو فیصد اپنا اکاؤنٹ خود چلاتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ایک اہم حکومتی عہدہ رکھنے کے باوجود ان کی ذاتی زندگی بھی ہے اور وہ خود کو ایک عام انسان سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان میں کوئی غیر معمولی بات نہیں اور وہ اپنی شخصیت کو کسی بناوٹ کے بغیر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
یہ معاملہ 13 اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر مارلن منرو کی ایک تصویر شیئر کی گئی، جسے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ تصویر میں 1956 کے زمانے کا منظر دکھایا گیا تھا اور صارفین سے پوچھا گیا تھا کہ اس میں کون سی ایسی چیز موجود ہے جو اس دور میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔
تصویر میں پرانی گاڑیوں اور ماضی کے ماحول کے ساتھ اداکارہ کی کلائی پر جدید اسمارٹ واچ دکھائی گئی تھی۔ وزیر دفاع نے اس پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے انگریزی میں صرف 'Watch' لکھا اور ساتھ مسکراتے چہرے کا ایموجی لگایا۔
ان کا یہ مختصر جواب سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔ متعدد صارفین نے اس پر طنزیہ تبصرے کیے، جبکہ بعض ناقدین نے سوال اٹھایا کہ قومی سلامتی جیسے اہم شعبے کے ذمہ دار وفاقی وزیر کو ایسی تفریحی پوسٹس میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں۔
تنقید کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ ایک اہم حکومتی منصب پر فائز شخصیت کی سوشل میڈیا سرگرمیوں میں اس کے عہدے کی سنجیدگی بھی نظر آنی چاہیے۔ دوسری جانب معاملہ ایک عام تصویری پہیلی کے جواب سے متعلق تھا، جس میں وزیر دفاع نے تصویر میں موجود جدید گھڑی کی نشاندہی کی تھی۔
بعد میں خواجہ آصف کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ حذف ہوگئی، تاہم اس کے اسکرین شاٹس گردش کرتے رہے اور مختلف صارفین اس پر تبصرے کرتے رہے۔
ٹیلی ویژن پروگرام میں جب وزیر دفاع سے اس معاملے پر وضاحت مانگی گئی تو انہوں نے کہا کہ تصویر میں ایک سادہ سوال پوچھا گیا تھا کہ 1956 کے منظر میں کون سی چیز غیر متعلقہ ہے۔ چونکہ اس زمانے میں اسمارٹ واچ موجود نہیں تھی، اس لیے انہوں نے گھڑی کی نشاندہی کردی۔
خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ ایک تصویری پہیلی کا درست جواب دینے میں آخر غیر سنجیدگی کی کون سی بات ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے محض پوچھے گئے سوال کا جواب دیا تھا اور اسے کسی غیر معمولی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ تفریح کے لیے بھی اپنا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں اور وزیر دفاع بننے کے بعد اپنی ذاتی دلچسپیوں یا شخصیت کو مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ خواجہ آصف ہی ہیں اور محض وزارت دفاع کی ذمہ داری سنبھالنے کی وجہ سے اپنی شناخت ختم نہیں کرسکتے، خواہ لوگوں کو ان کی شخصیت کے بعض پہلو پسند ہوں یا نہ ہوں۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر عوامی عہدے رکھنے والی شخصیات کی ذاتی اور سرکاری سرگرمیوں کے درمیان فرق سے متعلق بحث کو بھی نمایاں کیا ہے۔ بعض صارفین سرکاری عہدیداروں سے زیادہ محتاط طرزعمل کی توقع رکھتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک تفریحی مواد پر تبصرہ کرنا کسی عہدے کی ذمہ داریوں سے لازماً متصادم نہیں ہوتا۔
خواجہ آصف نے اپنی وضاحت میں اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ خود استعمال کرتے ہیں اور ایک عام انسان کی حیثیت سے اپنی ذاتی زندگی اور دلچسپیوں کو برقرار رکھنا ان کا حق ہے۔





