خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی پارلیمنٹ سے منظوری، اپوزیشن کا احتجاج

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی کی تحریک کے حق میں 214 اور مخالفت میں 56 ووٹ، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی پارلیمنٹ سے منظوری، اپوزیشن کا احتجاج
فائل فوٹو

اسلام آباد: پارلیمنٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی کثرتِ رائے سے توثیق کردی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس معاملے پر بحث اور ووٹنگ ہوئی، جبکہ اپوزیشن ارکان نے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان پیش کیے گئے۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دونوں صدارتی فرمان ایوان کے سامنے رکھے، جس کے بعد ارکان نے خیبرپختونخوا کی صورتحال اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تحریک پر بحث کی۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تحریک کے حق میں 214 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 56 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس طرح تحریک کثرتِ رائے سے منظور ہوگئی۔

ووٹنگ کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان میں حکومت کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

پارلیمنٹ سے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے متعلقہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔

وزیراعظم نے ایوان میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کی۔

اس سے ایک روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قراردادیں کثرتِ رائے سے منظور کی تھیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی فرمان پیش کیے جانے، ایمرجنسی کی تحریک پر ووٹنگ اور گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی پارلیمانی توثیق کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔

خبر شیئر کریں: