مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

برطانوی سائنسدانوں نے سگریٹ کے دھویں اور تولیدی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا، فضائی آلودگی کے اثرات بھی سامنے آگئے

مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشافAI Generated

مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا مسئلہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کررہا ہے۔ اب ایک نئی تحقیق میں اس مسئلے کی ایک اہم ممکنہ وجہ سامنے آئی ہے، جس کا تعلق سگریٹ نوشی سے ہے۔

برطانیہ کی شیفیلڈ یونیورسٹی اور ناٹنگھم یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق سگریٹ کا دھواں مردوں اور خواتین دونوں کی تولیدی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے بانجھ پن کا خطرہ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر 6 میں سے ایک فرد کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں طرز زندگی اور ماحول سے متعلق عوامل بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے ہونے والی تحقیقات میں بھی سگریٹ نوشی اور بانجھ پن کے درمیان تعلق سامنے آچکا تھا، تاہم سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ سگریٹ کا دھواں تولیدی نظام کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔

نئی تحقیق کے دوران نر اور مادہ چوہوں کو سگریٹ کے دھویں کے اثرات کے حوالے سے مختلف تجربات میں شامل کیا گیا۔ یہ تجربات 12 ہفتوں تک جاری رہے، جن میں ان کے تولیدی اعضا پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

تجربات کے نتائج سے معلوم ہوا کہ سگریٹ کے دھویں کے اثرات نر اور مادہ دونوں کے تولیدی نظام میں نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ تمباکو نوشی مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کے خطرے سے کیوں منسلک ہوسکتی ہے۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کے صحت پر منفی اثرات پہلے ہی معلوم ہیں، لیکن ان تجربات سے تولیدی اعضا کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

چونکہ یہ تجربات چوہوں پر کیے گئے ہیں، اس لیے ان نتائج کو انسانوں میں بانجھ پن کے خطرے کا براہ راست ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔ تاہم تحقیق سے اس تعلق کو مزید سمجھنے کے لیے اہم معلومات ملی ہیں۔

سائنسدان اب اس پہلو پر بھی تحقیق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا والدین کی سگریٹ نوشی کی عادت ان کی اولاد کی تولیدی صحت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے اور مستقبل میں بانجھ پن کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

برطانوی تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ٹاکسیکولوجی (Frontiers in Toxicology) میں شائع ہوئے ہیں۔

دوسری جانب بانجھ پن کے حوالے سے دسمبر 2024 میں امریکا کی ایموری یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں فضائی آلودگی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے مطابق آلودہ ہوا میں موجود بعض ذرات مردوں اور خواتین دونوں کی تولیدی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

امریکی تحقیق میں تقریباً 1400 ایسے مردوں اور خواتین کو شامل کیا گیا تھا جو آئی وی ایف، یعنی طبی طریقے سے حمل ٹھہرانے کی کوشش کررہے تھے۔ اس طریقے میں انڈے اور اسپرم کو لیبارٹری میں ملا کر حمل کے امکانات پیدا کیے جاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے تحقیق میں شامل افراد کے رہائشی علاقوں میں فضائی آلودگی کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا اور انہیں آئی وی ایف مراکز میں علاج کے نتائج سے ملا کر دیکھا۔ اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ زیادہ آلودہ ماحول میں رہنے والے افراد کی تولیدی صحت کس حد تک متاثر ہوسکتی ہے۔

عام طور پر فضائی آلودگی کے تولیدی صحت پر اثرات کے حوالے سے خواتین پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے، لیکن اس تحقیق میں مردوں کی تولیدی صحت پر بھی ممکنہ منفی اثرات سامنے آئے۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود کاربن اور بعض مخصوص ذرات آئی وی ایف کے ذریعے حمل ٹھہرنے کی کوششوں کی ناکامی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک پائے گئے۔

ان ذرات کے ممکنہ ذرائع میں جنگلات کی آگ، ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں، بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور مختلف صنعتی مراکز شامل ہیں۔ ان ذرائع سے خارج ہونے والے باریک ذرات ہوا میں شامل ہوکر انسانی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ فضائی آلودگی والے علاقوں میں رہنے والے جوڑوں کو آئی وی ایف کے ذریعے حمل ٹھہرانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ نتائج آلودگی اور علاج کی ناکامی کے درمیان تعلق ظاہر کرتے ہیں، ہر انفرادی معاملے میں براہ راست وجہ ثابت نہیں کرتے۔

ان دونوں تحقیقات سے سگریٹ نوشی اور فضائی آلودگی جیسے عوامل کے تولیدی صحت پر ممکنہ اثرات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ سائنسدان ان اثرات کی وجوہات اور طویل مدتی نتائج جاننے کے لیے مزید تحقیق کررہے ہیں۔

خبر شیئر کریں: