پاکستان میں کثیرالجہتی غربت 38 فیصد سے تجاوز، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف
یو این ڈی پی کے مطابق صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی کی محرومیوں کا سامنا کرنے والوں کی شرح 38.3 فیصد؛ عالمی سطح پر بھی غربت میں اضافہ۔
نیویارک: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی نئی کثیرالجہتی غربت رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 38 اعشاریہ 3 فیصد آبادی صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی سے متعلق بیک وقت کئی محرومیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بھارت کی شرح 16 اعشاریہ 4 فیصد اور بنگلہ دیش کی 14 اعشاریہ 9 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم ان ممالک کے اعداد مختلف برسوں کے گھریلو سروے پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی وقت کی براہ راست پیمائش نہیں سمجھنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کثیرالجہتی غربت کا شکار افراد کی محرومی کی شدت 51 اعشاریہ 7 فیصد ہے، جبکہ مزید 12 اعشاریہ 9 فیصد آبادی ایسی غربت میں جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ یہ پیمانہ صرف آمدن نہیں دیکھتا بلکہ غذائیت، تعلیم، پانی، بجلی، رہائش اور بنیادی سہولتوں تک رسائی کو بھی شامل کرتا ہے۔
عالمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کثیرالجہتی غربت کا شکار افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ہوگئی ہے۔ ان میں بچوں کی تعداد نصف سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے نتائج پاکستان میں بنیادی خدمات اور سماجی تحفظ کی پالیسیوں کے لیے ایک اہم تنبیہ سمجھے جا رہے ہیں۔





